تودے کی زد میں آنے سے 5 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے متاثرین کی نصف درجن رہائش گاہوں کے تودوں کے زد میں آنے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں چار بچے شامل ہیں۔ یہ واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی رات مظفرآباد سے جنوب مشرق میں تریسٹھ کلومیڑ کے فاصلے پر واقع گاؤں بالا بانڈی میں اس وقت پیش آیا جب لوگ سوئے ہوئے تھے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس گاؤں میں کوئی نصف درجن عارضی رہائش گاہیں تودوں کی زد میں آکر تباہ ہوگئی ہیں اور اس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ مرنے والوں میں ایک عورت، ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں اور ان سب کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ چار افراد اس واقعہ میں زخمی ہوگئے ہیں ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر پانچ عارضی رہائش گاہوں کے مکینوں نے بھاگ کر جان بچائی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مون سون کی بارشوں کے باعث منگل کی ہلاکتوں سمیت گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران تقریباً تیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران بارشوں کے باعث تودوں اور طغیانی کی وجہ سےلگ بھگ دس ہزار افراد پر مشتمل تقریباً پندرہ سو خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر لوگوں کو حکومت کی جانب سے قائم کی گئی نئی خیمہ بستیوں میں آباد کیا گیا اور کچھ کو ان کے گھروں کے قریب محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جہاں انھیں حکومت کی طرف سے خیمے، کمبل اور بستر فراہم کیے گئے ہیں ۔ اب تک محفوظ مقامات پر منتقل کیے جانے والوں میں تئیس دیہاتوں سے چار ہزار سے زائد افراد پر مشتمل ساڑھے سات سو خاندان بھی شامل ہیں۔ ان دیہاتوں کی نشاندھی ’جیولوجیکل سروے آف پاکستان‘ نے کی تھی اور کہا تھا کہ یہ تودوں کی زد میں ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کچھ اور مقامات سے تودے گرنے کے خطرات کی اطلاعات ہیں اور یہ کہ وہ ان علاقوں سے بھی درجنوں خاندانوں کو منتقل کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے اگر مزید بارشیں ہوتی ہیں تو ممکن ہے کہ مزید لوگوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑے ۔ بارشوں کے باعث تودے گرنے سے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے متاثرہ علاقوں میں کئی سڑکیں بھی بند ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں دیہاتوں کا مرکزی شہروں سے رابط منقطع ہوچکا ہے اور لوگوں کو آمد و رفت میں مشکلات ہیں۔ وادی نیلم کو شہر مظفرآباد سے ملانے والی اہم سڑکیں بھی تودے گرنے سے کئی روز سے بند ہیں ۔ |
اسی بارے میں کشمیر کابینہ: اسلام آباد میں حلف07 August, 2006 | پاکستان کشمیر: تیرہ سو خاندانوں کی منتقلی05 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||