BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: تیرہ سو خاندانوں کی منتقلی

کشمیر
مزید لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑے گا: حکام
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے طغیانی اور تودے گرنے کے خطرے کے پیشِ نظرگزشتہ چند دنوں میں مزید چھ سو خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

اس طرح ایک ماہ کے دوران بارشوں کے باعث محفوظ مقامات پر منتقل کیئے جانے والے خاندانوں کی تعداد ساڑھے تیرہ سو تک پہنچ گئی ہے جن کے ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب نفوس کو خطرے سے نکالا گیا ہے۔

ان سے میں بیشتر لوگوں کو خیمہ بستیوں میں آباد کیا گیا ہے اور کچھ کو ان کے دیہات کے قریب محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے جہاں انہیں خیمے، کمبل اور بستر فراہم کیئے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کچھ اور مقامات سے بھی تودے گرنے کے خطرات کی اطلاعات ہیں اور مزید لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑے گا۔ حکام کے مطابق انہیں اندازہ نہیں تھا کہ بارشیں اتنی شدید ہوں گی اور یہ کہ اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال کے لیئے وہ تیار نہیں تھے۔ البتہ وہ کہتے ہیں کہ وہ صورت حال سے نپٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکام کو یہ اندازہ ہے کہ اگر بارشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو صورت حال بگڑ سکتی ہے ۔ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بارشیں جاری رہنے کی صورت میں پاکستان کے شمالی علاقوں اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے متاثرہ علاقوں میں دس سے بیس ہزار افراد کو ممکنہ طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑسکتا ہے۔

بارشوں کے باعث تودے گرنے کی وجہ سے پاکستان اور اس کے زیرِانتظام کشمیر کے متاثرہ علاقوں میں کئی سڑکیں بھی بند ہو چکی ہیں۔ کشمیر کے اس علاقے میں وادی نیلم اور جہلم کو مظفرآباد سے ملانے والی دو اہم سڑکیں بھی تودے گرنے سے بند ہیں اور انہیں کھولنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اسی طرح سے صوبہ سرحد میں وادی الائی کو جانے والی سڑک تودوں اور طغیانی کے باعث بند ہے جس کی وجہ سے اس علاقے کا پاکستان کے دوسرے شہروں سے رابطہ منقطع ہے ۔

متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی بندش کے باعث سینکڑوں دیہات کا مرکزی شہروں سے رابطہ منقطع ہوچکا ہے اور لوگوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

 پاکستان اور اس کے زیرِانتظام کشمیر کے متاثرہ علاقوں میں کئی سڑکیں بھی بند ہو چکی ہیں۔ کشمیر کے اس علاقے میں وادی نیلم اور جہلم کو مظفرآباد سے ملانے والی دو اہم سڑکیں بھی تودے گرنے سے بند ہیں اور انہیں کھولنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اسی طرح سے صوبہ سرحد میں وادی الائی کو جانے والی سڑک تودوں اور طغیانی کے باعث بند ہے جس کی وجہ سے اس علاقے کا پاکستان کے دوسرے شہروں سے رابطہ منقطع ہے ۔

گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے باعث متاثرہ علاقوں میں کئی مقامات پر زمین کی صورت حال کچھ ایسی ہوگئی ہے کہ وہاں بارشوں کی وجہ سے تودے گرتے ہیں یا تودے گرنے کا خطرہ موجود ہے ۔

حالیہ بارشوں کی وجہ سے پاکستان اور اس کے زیرِانتظام کشمیر کے متاثرہ علاقوں میں ایک ماہ کے دوران قریباً ایک سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں زیادہ تر لوگ اب بھی عارضی رہائشوں اور خیموں میں رہتے ہیں اور ان علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے تعمیرِ نو کا وہ عمل تقریباً رک گیا ہے جو پہلے ہی سست رفتاری اور محدود پیمانے پر ہو رہا تھا۔

اسی بارے میں
دریا میں بہہ کر 10 ہلاک
04 August, 2006 | پاکستان
بارشیں رحمت یا زحمت!
28 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد