BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 August, 2006, 23:38 GMT 04:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران کی پاکستان کو یقین دہانی

وفاقی سیکریٹری داخلہ کمال شاہ گزشتہ ہفتے ایران کا تین روزہ دورہ کر کے واپس لوٹے ہیں
ایران نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی سے تعلق رکھنے والے کسی رکن کو ایران میں پناہ نہیں دی جائے گی۔

پاکستان کے سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایرانی حکام کی طرف سے یہ یقین دہانی ان کے وزیرِ داخلہ اور قائم مقام وزیر خارجہ کی طرف سے کرائی گئی۔

حکومتِ پاکستان نے بلوچستان میں مبینہ طور پر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث بلوچستان لبریشن آرمی نامی تنظیم کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔

کمال شاہ گزشتہ ہفتے ایران کا تین روزہ دورہ کر کے واپس لوٹے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام سے مذاکرات میں انہوں نے ایرانی حکام کو یہ بڑے واضح الفاظ میں باور کرایا کہ پاکستانی بلوچستان میں عدم استحکام کے اثرات ایرانی بلوچستان پر مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے تیس میں سے نو صوبوں میں بلوچ آباد ہیں اور سب سے زیادہ بلوچ آبادی سیستان کے صوبے میں ہے جس کی سرحد پاکستان سے ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان ایک دوسرے کے قیدیوں کو رہا کرنے پر بھی مفاہمت ہوگئی ہے اور اس معاملے کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے دونوں ملکوں کے وزارتِ خارجہ کے اہلکاروں کا اجلاس اگست میں متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی مختلف جیلوں میں چورانے پاکستانی قید ہیں۔

کمال شاہ نے کہا کہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے قید ان پاکستانیوں کو ابھی تک ایران میں پاکستانی سفارت خانے کے اہلکاروں کو بھی ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی دس کے قریب ایرانی قید ہیں جن کی نشاندہی ہو چکی ہے تاہم تمام صوبوں کو کہا گیا ہے کہ اگر صوبائی جیلوں میں کوئی ایرانی قید ہیں تو اس کے بارے میں وفاقی وزارتِ داخلہ کو مطلع کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام نے وعدہ کیا ہے کہ تمام پاکستانیوں کو سفارت خانے کے حکام سے ملنے کی جلد اجازت دی جائے گی۔

کمال شاہ نے کہا کہ اس طرح پاکستانی جیلوں میں قید ایرانیوں کو بھی ان کے سفارت خانے کے حکام سے ملنے کی اجازت دے دی جائے گی۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ابھی حکومت پاکستان کے پاس کوئی تفصیل موجود نہیں کہ جو پاکستانی ایرانی جیلوں میں بند ہیں ان کے خلاف کیا الزامات عائد کیئے گئے ہیں۔

کمال شاہ نے انسانوں کی اسمگلنگ کے حوالے سے کہا کہ اس مسئلہ پر بھی ایرانی حکام سے بات ہوئی اور اس سلسلے میں مستقل رابطہ رکھنے کے لیئے دونوں ملک ایک ایک حکومتی اہلکار کی نشاندھی کریں گے جو ایک دوسرے سے باقاعدہ معلومات کا تبادلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایرانی حکام پر زور دیا کہ ان ایجنٹوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو ان لوگوں کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

کمال شاہ نے کہاکہ انہوں نے ایرانی حکومت کوان ایجنٹوں کی ایک فہرست مہیا کی ہے جو مبینہ طور پر انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

سیکریٹری داخلہ نے کہاکہ ایرانی حکام نے انہیں ایک فلم دکھائی جس میں ایران سے تعلق رکھنے والے کچھ جرائم پیشہ افراد نے ایران سے اغواء کرکے لائے جانے والےایک شخص کو پاکستان کے اندر لا کر ذبح کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام کے مطابق تین ایسے ایرانی گروہ ہیں جو ایران میں جرائم کرکے پاکستان کی سرحدوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ان میں سب سے خطرناک گروہ عبدالرحمان ریگی کاہے۔

کمال شاہ نے کہا کہ پاکستان نے بلوچستان میں پائی جانے والی صورت حال کے بارے میں بھی ایرانی حکام سے تبادلہ خیال کیا اور انہیں یہ باور کرایا کہ پاکستانی بلوچستان میں عدم استحکام کے اثرات ایرانی بلوچستان پر بھی ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد