BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 August, 2006, 15:42 GMT 20:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مردان: پل ٹوٹنے سے بتیس ہلاک

سیلاب (فائل فوٹو)
دو دن سے جاری بارشوں اور سیلاب سے مردان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے(فائل فوٹو)
صوبہ سرحد کے ضلع مردان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ایک پل منہدم ہونے سے کم سے کم سو افراد پانی میں بہہ گئے ہیں جبکہ حکام کے مطابق اب تک بتیس لاشوں کو نکالا جا چکا ہے۔

ضلعی ناظم مردان حمایت اللہ مایار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ سنیچر کو اس وقت پیش آیا جب مردان شہر میں واقع کلپانی نامی نالے میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے اچانک شدید طغیانی آگئی جس کی وجہ سے مردان شہر کو پارہوتی سے ملانے والے شگو پل کا ایک حصہ پانی میں بہہ گیا۔

پولیس کے مطابق جس وقت پل ٹوٹا اس وقت وہاں درجنوں افراد کھڑے تھے جو پل بیٹھنے کی ساتھ ہی سیلابی پانی میں بہہ گئے۔ اب تک سیلابی پانی سے پچیس لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ حکام خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مردان انتظامیہ نے علاقے میں ہنگامی حالات کا اعلان کرتے ہوئے فوج طلب کر لی ہے۔ اس کے علاوہ لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کے لیئے فوج کی غوطہ خور ٹیموں کی مدد بھی حاصل کر لی گئی ہے۔

ایس ایس پی مردان عابد علی کے مطابق شہری اور تجارتی علاقوں میں پھنسے ہوئے زیادہ تر افراد کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’مقامی سطح پر جتنے بھی ذرائع تھے ان سب کو استعمال میں لایا جارہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو بچایا جائے‘۔

عینی شاہدین کے مطابق دو دن سے جاری بارشوں اور سیلاب سے مردان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ مردان کے ایک شہری افتخار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’طغیانی اور برساتی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے سارا مردان شہر پانی میں ڈوب گیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر علاقے زیر آب ہیں اور دوپہر تک شہر میں دو سے تین فٹ پانی کھڑا تھا جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور ہزاروں گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

 مردان انتظامیہ نے علاقے میں ہنگامی حالات کا اعلان کرتے ہوئے فوج طلب کر لی ہے۔ اس کے علاوہ لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کے لیئے فوج کی غوطہ خور ٹیموں کی مدد بھی حاصل کر لی گئی ہے۔

ادھر ضلع دیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دو دن کی مسلسل بارشوں اور سیلابی ریلوں میں دیر بالا میں چھ بچوں سمیت نو افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ دریں اثناء پشاور میں فلڈ وارننگ سیل کے رابطہ افسر ولی یوسف زئی نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ ضلع پشاور کے اطراف میں بہنے والے دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے پشاور شہر میں بھی سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نے ہر قسم کی ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے اقدامات کیئے ہیں۔ یاد رہے کہ صوبہ سرحد میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے ابھی تک کم سے کم سو افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
دریا میں بہہ کر 10 ہلاک
04 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد