پاکستان: نئی ویزہ پالیسی کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت نے نئی ویزا پالیسی جاری کرتے ہوئے دنیا کے ایک سو پچھہتر ممالک کے شہریوں کو ویزا کے حصول میں سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان ممالک کی فہرست میں بھارت اور اسرائیل سمیت سولہ ممالک شامل نہیں ہیں لیکن پاکستان نے بھارتی شہریوں کے لیے ویزا میں سہولیات کا ایک خصوصی پیکیج منظور کیا ہے۔ یہ اعلان جمعہ کو وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور سیاحت کے متعلق وزیر نیلوفر بختیار نے کیا اور بتایا کہ ایشیا، امریکہ، یورپ، آسٹریلیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے بیشتر ممالک کے شہری حکومت کی نئی ویزا پالسیی سے مستفید ہوسکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے صرف اڑتالیس ممالک کو ’کیٹیگری اے‘ میں شامل کیا گیا تھا اب اس فہرست کی تعداد ایک سو پچھہتر کردی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس فہرست میں شامل ممالک کے شہریوں کو اب وزارت داخلہ سے پیشگی اجازت کے بنا ہی متعلقہ ممالک میں قائم پاکستان کے سفارت خانوں سے فوری ویزا دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ اسرائیل، بھارت، لبیا، بنگلہ دیش، بھوٹان اور سری لنکا سمیت دنیا کے سولہ ممالک کے شہریوں کو اب بھی وزارت داخلہ سے پیشگی اجازت کے بنا ویزا نہیں دیا جائے گا۔ ان ممالک کی فہرست میں الجیریا، عراق، نائیجیریا، صومالیہ، سوڈان، سربیا، تنزانیہ، یوگنڈا اور یمن کے علاوہ ’پی ایل او‘ شامل ہیں۔ ان ممالک کے شہریوں پر یہ بھی لازم ہوگا کہ وہ پاکستان پہنچنے پر پولیس کے پاس اپنا اندراج کرائیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے ویزا کی سہولیات کے بارے میں انہیں کچھ تجاویز ملیں تھیں اور کئی پاکستان کی حکومت نے قبول کرلی ہیں۔ ان کے مطابق پہلے بھارتی بزرگ شہریوں، بیواؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور بارہ برس سے کم عمر کے بچوں کو تین ماہ کا ویزہ ملتا تھا اب انہیں دو سال کا ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت سے گروپ کی شکل میں آنے والے سیاحوں کو پہلے چودہ روز کا ویزا ملتا تھا اب انہیں ایک ماہ کا ملے گا جبکہ بھارت سے زیارت کو یہاں آنے والےجن کی تعداد دس سے کم نہیں ہوگی انہیں پانچ روز کے بجائے پندرہ روز کا ویزہ دیا جائےگا۔ ان کے مطابق بھارت کے کاروباریوں کے لیے ’بزنس ویزا‘ کا اجراء کیا جارہا ہے اور انہیں چھ ماہ کا ملٹی پل ویزا ملے گا اور ایک وقت میں تیس روز تک وہ پاکستان میں قیام کرپائیں گے جبکہ بھارت کے سفارتی اور غیر سفارتی عملے کو ویزے دینے کا عمل تیز کیا جائےگا۔ تاہم ان کے مطابق جہاں سکیورٹی کلیئرنس کی ضرورت ہوگی تو وہ زیادہ سے زیادہ چار ہفتوں میں مکمل کرلی جائے گی۔ اس موقع پر نیلو فر بختیار نے بتایا کہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور نیدرلینڈ سمیت دنیا کے تئیس ممالک کے سیاحت کے لیئے آنے والے شہریوں کو پاکستان پہنچنے پر ویزا دیا جائے گا۔ دیگر ممالک میں آسٹریا، بیلجیم، چین، ڈنمارک، فن لیڈ، یونان، آئیس لینڈ، اٹلی، جاپان، کوریا، لگزمبرگ، ملائیشیا، ناروے، پرتگال، سنگاپور، سپین، سوئیڈن اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔ پہلے یہ سہولت چین اور جاپان کو حاصل تھی۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ دنیا کے انسٹھ ممالک کے کاروباری حضرات کو بھی پاکستان پہنچنے پر ویزا دینے کی سہولت منظور کی گئی ہے لیکن ان کے مطابق اِس کے لیئے متعلقہ کاروباریوں کو اپنے ملک یا پاکستان کے ایوان تجارت کا سفارشی خط یا کسی تجارتی ادارے کا دعوت نامہ لازمی ہونا چاہیے۔ ان ممالک کے یہ افراد اگر اپنے ملک میں قائم پاکستانی مشن سے رابطہ کریں گے تو انہیں چوبیس گھنٹے میں پانچ سال کا ملٹی پل ویزا ملے گا لیکن ایمرجنسی کے علاوہ کسی کوبھی کسی تیسرے ملک سے ویزہ نہیں ملے گا۔ دنیا بھر کے صحافیوں کے لیے ویزا میں سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ انہیں جتنا جلد ممکن ہوگا ویزا ملے گا۔ ان کے مطابق پاکستان میں تعینات غیر ملکی صحافی کو وزارت اطلاعات کی سفارش پر ایک سال کا ملٹی پل ویزا ملے گا اور ہر سال اس میں توسیع کی جائے گی جبکہ خاص کام کے لیے آنے والے غیر ملکی صحافیوں کو پہلے ایک ماہ تک ویزا ملتا تھا جس میں اب ایک اور ماہ تک توسیع ہوسکے گی۔ وزارت داخلہ کی ویب سائٹ www.interior.gov.pk پر دی گئی معلومات کے مطابق صحافیوں کو کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے لیئے ویزا جاری ہوگا اور دیگر شہروں میں جانے کے لیئے انہیں وزارت اطلاعات کی سفارش پر اجازت ملے گی۔ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان کی ویزا پالیسی میں ٹھوس تبدیلیاں اس لیئے کی ہیں تاکہ پاکستان کا دنیا میں وقار بلند ہو اور سیاحت، معیشت، تجارت اور بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔ | اسی بارے میں ویزہ کیمپ امرتسر میں بھی05 March, 2004 | پاکستان ویزہ نہ جاری کرنے کی مذمت09 July, 2005 | پاکستان ویزہ ملا نہیں لیکن ٹکٹ کے لیےدوڑ02 February, 2006 | پاکستان ویزہ سکینڈل: ملزم کا پولیس ریمانڈ 07 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||