BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 June, 2006, 13:37 GMT 18:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیر کے حامیوں کا پریس کلب پر حملہ

 زخمی
پریس کلب میں ہاتھا پائی کے دوران کچھ لوگ شدید زخمی بھی ہوئے
وفاقی وزیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ (ق) کے صوبائی صدر امیر مقام کے درجنوں حامیوں اور یوتھ ونگ کے کارکنوں نے بدھ کے روز پولیس کی موجودگی میں پشاور پریس کلب پر ہلہ بول کر مسلم لیگ (ق) فارورڈ بلاک کے کئی کارکنوں کو مارا پیٹا جس سے چار افراد شدید زخمی ہوگئے۔

حملے میں دو صحافیوں کو بھی چوٹیں آئی جبکہ چار حملہ آوروں کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس واقعے کےخلاف پشاور کے صحافیوں نے وزیراعلی سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

پشاور پریس کلب کی انتظامیہ نے وفاقی وزیر امیر مقام اور مسلم لیگ کی خاتون رکن اسمبلی نگہت اورکزئی سمیت سات افراد کے خلاف پریس کلب پر حملہ کروانے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کروایا ہے۔

پولیس نے چار افراد کو حراست میں لیا

صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب پستول اور ڈنڈوں سے لیس وفاقی وزیر امیر مقام کے درجنوں حامیوں اور مسلم لیگ یوتھ ونگ کے کارکنوں نے پشاور پریس کلب کے اندر داخل ہوکر مسلم لیگ (ق) فارورڈ بلاک کے عہدیددراوں پر حملہ کیا۔ اس حملے میں چار افراد کو سر پر شدید چوٹیں لگیں جبکہ دو صحافی بھی معمولی زخمی ہوئے۔

اس موقع پر چند پولیس اہلکار موقع پر موجود تھے تاہم وہ حملہ آوروں کو روکنے میں ناکام رہے اور تقریباً تیس منٹ تک پشاور پریس کلب اور اس کے سامنے واقع مرکزی شاہراہ میدان کارزار بنی رہی۔

پریس کلب کی انتظامیہ کی جانب سے پولیس کو بار بار فون کرنے کے باوجود کوئی توجہ نہیں دی گئی اور کافی دیر کے بعد قریبی تھانے سے نفری آئی اور چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ باقی حملہ آور بھاگنے میں کامیاب ہوگئے۔

وفاقی وزیر کے حامیوں کا موقف تھا کہ فاروڈ بلاک کے اراکین امیر مقام کے خلاف پریس کانفرنس نہ کریں۔ پریس کلب انتظامیہ کی جانب سے بارہا سمجھانے کے باوجود یوتھ ونگ کے مسلح کارکن اپنی بات پر ڈٹے رہے اور کلب پر حملہ کردیا۔

پریس کلب انتظامیہ نے کلب کے دروازوں پر تالے لگا دیئے تاہم یوتھ ونگ کے کارکن گیٹ پھلانگ کر اندر داخل ہوئے اور اپنے مخالفین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

مشتعل حملہ آور ڈنڈوں سے لیس تھے

اس واقعہ کے فوراً بعد پشاور کے صحافیوں نے وزیرِاعلی ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور وفاقی وزیر اور مسلم لیگی خاتون رکن اسمبلی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر صحافیوں سے ملاقات میں سینئر صوبائی وزیر سراج الحق نے یقین دلایا کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کوگرفتار کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائےگی۔

دریں اثنا پشاور پریس کلب کی مجلس عاملہ نے پاکستان مسلم لیگ (ق) گروپ کی پریس کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ اجلاس کے فیصلوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے پریس کلب کے صدر نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے کی وڈیوز اور تصاویر پاکستان کے تمام پریس کلبوں کو بھیجی جائیں گی اور یہ پرامن احتجاج ملزمان کی گرفتاری تک جاری رہے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد