طلباء کی گرفتاری پر احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں طلباء نے مری قبیلے کے طالب علموں کی گرفتاریوں کے خلاف مظاہرہ کیا ہے اور احتجاجاً سکول کی کاپیوں اور کتابوں کو آگ لگا دی ہے۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مری قبیلے سے تعلق رکھنے والے طلباء بینرز اور کطبے اٹھائے کھڑے تھے جن پر بلوچ اسیروں کو رہا کرنے کے مطالبے لکھے ہوئے تھے۔ اس مظاہرے میں کمسن بچوں کے ساتھ ساتھ سکول اور کالج کی سطح کے طالبعلم موجود تھے۔ ان طلباء نے حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی ہے اور احتجاج میں اپنی کتابوں کو آگ لگا دی ہے۔ ان طلباء کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے لوگوں کو رہا نہیں کیا جاتا وہ سکول یا کالج نہیں جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ریاستی پالیسیاں ایسی ہیں کہ وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے تین طلباء میر محمد نور محمد اور جمند خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں باقاعدگی سے تعلیم حاصل کرنے اپنے اپنے اداروں کو جاتے تھے لیکن انہیں ایک نجی ہسپتال سے اس وقت اٹھایا گیا ہے جب وہ کسی مریض کی عیادت کے لیے گئے تھے۔ ان تینوں طلباء کی والدہ بھی ایک اخباری کانفرنس میں ان کی رہائی کا مطالبہ کر چکی ہیں۔ اس مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں بچوں کے اغوا کے واقعات میں اضافہ26 May, 2006 | پاکستان کوئٹہ دھماکہ: پانچ ہلاک، سترہ زخمی12 June, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||