BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 June, 2006, 17:56 GMT 22:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طلباء کی گرفتاری پر احتجاج

مری قبیلے کے سٹوڈنٹس
تین طلباء میر محمد ، نور محمد اور جمند خان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا
کوئٹہ میں طلباء نے مری قبیلے کے طالب علموں کی گرفتاریوں کے خلاف مظاہرہ کیا ہے اور احتجاجاً سکول کی کاپیوں اور کتابوں کو آگ لگا دی ہے۔

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مری قبیلے سے تعلق رکھنے والے طلباء بینرز اور کطبے اٹھائے کھڑے تھے جن پر بلوچ اسیروں کو رہا کرنے کے مطالبے لکھے ہوئے تھے۔

اس مظاہرے میں کمسن بچوں کے ساتھ ساتھ سکول اور کالج کی سطح کے طالبعلم موجود تھے۔ ان طلباء نے حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی ہے اور احتجاج میں اپنی کتابوں کو آگ لگا دی ہے۔ ان طلباء کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے لوگوں کو رہا نہیں کیا جاتا وہ سکول یا کالج نہیں جائیں گے۔

مری قبیلے سے تعلق رکھنے والے طلباء نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا

انہوں نے کہا کہ وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ریاستی پالیسیاں ایسی ہیں کہ وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے تین طلباء میر محمد نور محمد اور جمند خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں باقاعدگی سے تعلیم حاصل کرنے اپنے اپنے اداروں کو جاتے تھے لیکن انہیں ایک نجی ہسپتال سے اس وقت اٹھایا گیا ہے جب وہ کسی مریض کی عیادت کے لیے گئے تھے۔

ان تینوں طلباء کی والدہ بھی ایک اخباری کانفرنس میں ان کی رہائی کا مطالبہ کر چکی ہیں۔

اس مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

وہ کہاں گئے؟
گمشدہ بلوچ کارکنوں کا معمہ حل نہ ہو سکا
فائل فوٹوبچوں کا اغوا
کوئٹہ میں بچوں کے اغوا کے واقعات میں اضافہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد