BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 June, 2006, 06:51 GMT 11:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ دھماکہ: پانچ ہلاک، سترہ زخمی

دھماکہ میں تین افراد ہلاک ہوئے
کوئٹہ میں کچھ دن قبل فرقہ وارانہ واداتیں اور بم دھماکے کرنے والا گروہ پکڑا گیا تھا
کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دھماکہ ہوا ہے جس میں ایک خاتون اور ایک بچے سمیت پانچ افراد ہلاک اور سترہ افراد زخمی ہوئے ہیں ۔

یہ دھماکہ نیو سریاب پولیس تھانے کے قریب ایک ہوٹل کے پاس ہوا ہے۔

پولیس حکام نے بتایا ہے یہ اڑھائی سے تین کلو وزنی بم تھا جو ایک سائکل پر نصب کیاگیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور اس کا بیٹا شامل ہے جو اس جگہ بس کے انتظار میں کھڑے تھے۔

زخمیوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے دھماکے کی آواز سنی اور پھر وہ بے ہوش ہو گئے ۔اب یہاں ہسپتال میں انہیں ہو ش آیا ہے۔

دھماکہ اس قدر زور دار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے بیشتر افراد مزدور اور ریڑھیوں پر سبزیاں اور پھل بیچنے والے ہیں۔ سول ہسپتال میں لائے گئے اکثر زخمیوں کو آواز سنائی نہیں دی رہی تھی۔

ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ زیادہ تر زخمیوں کے جسم جھلس گئے ہیں اور دیگر کے جسم پر چھرے لگے ہوئے تھے۔

بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری محمد یعقوب نے کہا ہے ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد مقامی بلوچ لوگ ہیں اور اس طرح کی کارروائیوں سے بلوچستان کے حقوق حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں گرفتاریاں کی جائیں گی۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومت تین مختلف زاویوں سے اس واقعے کو دیکھ رہی ہے اس میں بین الاقوامی دہشت گرد افغان عنصر اور مقامی مزاحمت کار ملوث ہو سکتے ہیں اور ان تینوں میں سے کسی ایک کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

تاحال اس دھماکے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ یاد رہے گزشتہ ہفتے بلوچستان کے شہر حب کے ایک ہوٹل میں دھماکے سے تیرہ افراد زخمی ہوگئے تھے ۔

حب دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریش آرمی نے قبول کی تھی۔ اس تنظیم کے ایک ترجمان نے ٹیلیفون پر بتایا تھا کہ اس ہوٹل میں سرکاری اہلکاروں کی میٹنگ ہو رہی تھی جس میں ان کی اطلاع کے مطابق چار یا پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے لیکن سرکاری سطح پر ان دعووں کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اس طرح کوئٹہ کے قریب گیس پائپ لائن اور بجلی کے کھمبوں کو دھماکے سے اڑانے کے حوالے سے اس تنظیم کے ترجمان آزاد بلوچ نے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے یہ حملے نہیں کیے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد