اکرم لاہوری کی سزائے موت کالعدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے سربراہ اکرم لاہوری اور ان کے تین ساتھیوں کی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے اکرم لاہوری، محمد اعظم، ملک تصدق اور عطااللہ کو قتل کے مقدمے میں سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے کراچی کے علاقے صدر میں سن دو ہزار دو کو فائرنگ کرکے ایرانی ٹی کمپنی کے مالک محمد رمضان کو قتل اور دو افراد کو زخمی کردیا تھا۔ ملزمان نے انسداد دہشتگردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کی اپیلٹ بینچ میں اپیل دائر کی تھی۔ جسٹس سرمد عثمانی اور جسٹس ضیا پرویز پر مشتمل اپیلٹ بینچ نے جمعرات کے روز انسداد دہشتگردی کی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پھر سے ٹرائیل کا حکم جاری کیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ محمد اجمل عرف اکرم لاہوری اور تصدق حسین کو کراچی کے علاقے محمود آباد میں امام بارگاہ علی المرتضیٰ پر فائرنگ اور چھ افراد کی ہلاکت کے الزام سے بھی بری کرچکی ہے۔ فرقہ وارنہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث اکرم لاہوری کو انتیس جون دو ہزار کو ان کے چار ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ سندھ اور پنجاب کی پولیس نے اکرم لاہوری کی گرفتاری پر پانچ پانچ ملین روپے انعام مقرر کیا تھا۔ اکرم لاہوری پر کراچی میں پاکستان سٹیٹ آئل کے منیجنگ ڈائریکٹر شوکت مرزا کے قتل سمیت فرقہ ورانہ دہشت گردی کے سات مقدمات درج تھے۔ ان مقدمات میں سے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شوکت مرزا اور امام بارگاہ محفل زینب میں سکیورٹی گارڈ کے قتل کے مقدمے سے اکرم لاہوری کو پہلے ہی بری کر دیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی ایک اور عدالت نے انہیں ڈاکٹر آل صفدر کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی جس میں ان کی اپیل منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ کی اپیلٹ بینچ نے انہیں بری کردیا تھا۔ | اسی بارے میں اکرم لاہوری 6 افراد کے قتل سے بری31 March, 2006 | پاکستان لشکرِ جھنگوی کے3 شدت پسندگرفتار 04 January, 2006 | پاکستان اکرم لاہوری مقدمہ قتل سے بری30 November, 2005 | پاکستان لشکر کے چار کارکن گرفتار10 May, 2005 | پاکستان مسجد پر حملہ،4 افراد کوسزائے موت10 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||