لشکر کے چار کارکن گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس نے ایک جھڑپ کے بعد کالعدم انتہاپسند تنظیم لشکر جھنگوی کے چار سرکردہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جب کہ ایک اہم رہنما فرار ہو گیا- پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق اکرم لاہوری کے گروہ سے ہے اور فرار ہونے والے آصف چھوٹو اکرم لاہوری کے بعد تنظیم میں دوسرے نمبر پر تصور کیے جاتے ہیں- گرفتار شدگان کی شناخت شوکت عرف چاند، قاری غلام حسین قاری، اطہر خان اور عمران جمشید کے طور پر کی گئی ہے- ڈی آئی جی پولیس کراچی برائے تفتیش منظور مغل کا کہنا ہے کہ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ علاقے میں آصف عرف چھوٹو پہنچنے والا ہے جس کے بعد پولیس نے ناکہ بندی کرکے جمشید کوارٹر کے علاقے سے ایک مقابلے کے بعد چار افراد کو گرفتار کر لیا جبکہ ان کا پانچواں ساتھی آصف چھوٹو فرار ہوگیا- پولیس کے مطابق ان کے قبضے سے ایک کلاشنکوف، ایک رپیٹر، پستول، 200 راؤنڈ گولیاں اور تیس ڈیٹونیٹر برآمد ہوئے ہیں- پولیس کا کہنا ہے کہ شوکت عرف چاند کا کراچی شہر میں دہشتگردی کی مختلف وارداتوں میں نام آتا رہا ہے- پولیس کے مطابق اس کے علاوہ وہ الفلاح امام بارگاہ اور سپارکو کی گاڑی پر حملوں میں ملوث ہے جن میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے- لشکر جھنگوی کو پاکستان میں غیرقانونی تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ حکام تنظیم کو اہل تشیع اور غیرملکی شہریوں پر حملوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل میں بھی لشکر جھنگوی کو ملوث قرار دیا جاتا ہے۔ لشکر جھنگوی کے بارے میں خیال ہے کہ اس کے اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ اور طالبان سے قریبی روابط تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||