کراچی گڈز ٹرانسپورٹر ہڑتال پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں بھاری گاڑیوں کی آمد پر پابندی کے خلاف بندرگاہ سمیت شہر کے صنعتی علاقوں اور بازاروں میں سامان کی ترسیل کرنے والے ٹرانسپورٹروں نے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کردی ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹروں کی وجہ سے بندرگاہ پر معمول کا کام متاثر ہو رہا ہے۔ کراچی انتظامیہ نے کراچی بندرگاہ، پورٹ قاسم، سائیٹ ایریا، لانڈھی اور کورنگی سمیت کئی علاقوں میں بھاری گاڑیوں کی آمد پر صبح پانچ بجے سے رات گیارہ بجے تک پابندی عائد کردی ہے۔ کراچی گڈز کیریئر ایسو سی ایشن کے رہنما حاجی محمد اسحاق، ملک احمد خان اور دیگر کارکنان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی سے روزانہ اندرون ملک دو لاکھ ٹن خوراک، ادویات، صنعت، زرعی اور دیگرسامان ترسیل کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری حکومت کی پابندی سے اندرون ملک سامان کی ترسیل مکمل طور معطل ہوگئی ہے، کیونکہ کراچی کے تمام کارخانوں اور گوداموں میں ایکسائز اور کسٹم عملہ صرف دن کے اوقات میں کام کرتا ہے۔ اس طرح اندرون ملک سے ایکسپورٹ ہونے والا سامان بروقت پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ پر نہ پہنچنے کی وجہ سے پاکستان کی ایکسپورٹ متاثر ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کی مرکزی اناج مارکیٹ جوڑیا بازار اور تمام ہول سیل مارکیٹیں شام سات بجے بند ہوجاتی ہیں۔ ’ کراچی میں کون سے مارکیٹ یا گودام رات گیارہ بجے سے صبح پانچ بجے تک کھلی ہوتی ہے جہاں سے مال لوڈ کرکے اندرون ملک لے جائیں گے‘۔ دوسری جانب سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کو رد کیا ہے اور کہا ہے کہ کوئی ہڑتال نہیں ہے صرف کچھ لوگوں نے گاڑیاں بند کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں کے ساتھ معاملات طے پاگئے ہیں، بس کچھ لوگ اپنی سیاست چمکانا چاہتے ہیں۔ | اسی بارے میں ہڑتال: اندرون سندھ کے شہر متاثر رہے12 May, 2006 | پاکستان کیمرامین کی ہلاکت پر احتجاج31 May, 2006 | پاکستان کراچی مغرب کے بعد بازار بند02 June, 2006 | پاکستان کراچی: آلودہ پانی سے 70 افراد بیمار24 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||