BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 June, 2006, 05:05 GMT 10:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں احتجاج اور ٹریفک جام

کراچی(فائل فوٹو)
کراچی میں قدیمی بستیوں کی مسماری اور ٹو سٹروک رکشہ پر پابندی کے خلاف جلوس کی وجہ سے شہر کی اہم شاہراہوں پر کئی گھنٹے ٹریفک جام رہا۔

پشتون لویہ جرگہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے جمعہ کی دوپہر کو شہر کے لسبیلہ چوک سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں رکشہ، ٹرک، ڈمپر اور منی بسیں شامل تھیں جس وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا۔

شام چار بجے سے رات نو بجے تک شہر کی اہم شاہراہوں ایم اے جناح روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، ضیا الدین روڈ، عبداللہ ہارون روڈ اور زیب النسا سٹریٹ پر ہزاروں گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اور لوگوں کو سخت گرمی میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

شام کو جیسے ہی جلسہ ختم ہوا اور یہ گاڑیاں واپس ہوئیں تو ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے مزید گاڑیاں پھنس گئیں۔

اس دوران شہر کے دو بڑے ہسپتالوں جناح اور سول میں مریضوں کو لے جانے والی ایمبولینس گاڑیاں بھی راستہ تلاش کرنے کے لیئے مسلسل ہوٹر بجاتی رہیں۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہونے والے اس احتجاج میں عوامی نیشنل پارٹی، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی،تحریک انصاف سمیت پشتونون کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما امین خٹک نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے بعد لوگوں نے کچی آبادیاں اور گوٹھ بسائے ہیں جنہیں ایک سازش کے تحت مسمار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ ایک بھی گاؤں کو مسمار کیاگیا تو پورے کراچی کے پشتون مزاحمت کریں گے۔

پشتون رہنما نے کہا کہ کراچی میں بیس ہزار ٹو سٹروک رکشہ چل رہے ہیں جن میں سے اکثریت کے ڈرائیور پشتون ہیں اور ’حکومت کی طرف سے ان پر پابندی کو ہم ایک سیاسی گروہ کی سازش سمجھتے ہیں۔ وہ بیس ہزار خاندانوں کے منہ سے نوالے چھیننا چاہتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پر عمل نہ ہوا تو وہ گورنر ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس اور سٹی ناظم کےدفتر کے سامنے روڈ جام کردیں گے اور کسی کو دفتر جانے نہیں دیا جائےگا۔

کراچی میں پٹھانوں کی بڑی آبادی رہتی ہے جو مزدوری، دیگر کاروباروں کے علاوہ ٹرک سے لیکر منی بس اور رکشہ تک ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرتی ہے۔ اکثر یہ لوگ شہر کے مضافات میں کچی آبادیوں میں رہتے ہیں جنہیں سٹی حکومت ناجائز تجاوزات قرار دے کر ہٹانا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد