میثاقِ جمہوریت لندن کے اہم نکات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
٭ معاہدۂ جمہوریت آٹھ صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں اس میں مشرف حکومت کی طرف سے متعارف کرائی گئی آئینی ترامیم، سیاسی نظام میں فوج کی حیثیت، نیشنل سکیورٹی کونسل، احتساب اور عام انتخابات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ دونوں جماعتیں متفقہ نکتۂ نظر رکھتی ہیں۔ ٭ چارٹر آف ڈیموکریسی میں 1973 کے آئین کو دس اکتوبر 1999 کی شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ٭ ملک کا دفاعی بجٹ کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ٭ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ وہ کسی فوجی حکومت میں نہ تو شامل ہوں گی اور نہ ہی حکومت میں آنے اور منتخب حکومت کے خاتمے کے لیے فوج کی حمایت طلب کریں گی۔ ٭ لیگل فریم ورک آرڈر ’ایل ایف او‘ آئین میں ساتویں ترمیم کے تحت مشترکہ طریقہ انتخاب اقلیتوں اور خواتین کی نشتوں میں اضافے، ووٹنگ کی عمر میں کمی اور پارلیمنٹ کی نشستوں میں اضافے جیسی ترامیم کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ٭ تین مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہونے پر عائد کی گئی پابندی کی مخالفت کی گئی ہے اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
٭ سفارش اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈیفنس کیبینٹ کمیٹی کی سربراہی وزیراعظم کے پاس ہونی چاہیے۔ ٭ جوہری رازوں کی چوری کا امکان ختم کرنے کے لیے جوہری اثاثوں کا مؤثر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تشکیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ٭ فوج اور عدلیہ کے تمام افسروں کو ارکانِ پارلیمنٹ کی طرح اپنی جائداد اور آمدنی کے سالانہ گوشوارے جمع کرانے کا پبند بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ ٭ ایک ایسا کمیشن بنانے کی سفارش کی گئی ہے جو 1996 کے بعد جمہوری حکومتوں کو ہٹانے اور کارگل جیسے واقعات کی تحقیقات کرے اور اس سے متعلق ذمہ داری کا تعین کرے۔ ٭ آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس اور تمام دیگر خفیہ ایجنسیوں کو منتخب حکومت کے ماتحت بنانے اور تمام خفیہ اداروں کے سیاسی شعبے ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
٭ ایک ایسی کمیٹی بنانے کی سفارش کی گئی ہے جو فوج اور خفیہ اداروں میں وسائل کے ضیاع کو روکنے کے بارے میں سفارشات مرتب کرے۔ ٭ ملٹری لینڈ اور کنٹونمینٹ کو وزارتِ دفاع کے تحت کرنے اور ایک ایسا کمیشن بنانے کی سفارش کی گئی ہے جو 12 اکتوبر 1999 کے بعد فوج کو الاٹ کی گئی زمین کے کیسوں کا جائزہ لے۔ ٭ چارٹر آف ڈیموکریسی کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ ایم ایم اے سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔ ٭ چارٹر آف ڈیموکریسی پر لندن میں اتوار کی رات دستخط ہوئے۔ چارٹر پر دستخط سے پہلے بھی دونوں رہنماوں کے درمیان لندن اور اس سے پہلے مشرقِ وسطیٰ میں ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ ٭ معاہدۂ جمہوریت پر دستخط سے پہلے ایف آئی اے کے سابق سربراہ رحمان ملک کی رہائش گاہ پر دونوں رہنماؤں کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے جن میں بینظر بھٹو کی مدد پارٹی کے مرکزی رہنماؤں مخدوم امین فہیم، رضا ربانی، سید خورشید شاہ، اعتزاز احسن اور راجہ پرویز اشرف نے جبکہ مسلم لیگ نواز کی طرف سے نواز شریف، شہباز شریف، اقبال ظفر جھگڑا، چودھری نثار علی خان، احسن اقبال اور غوث علی شاہ کی ۔ | اسی بارے میں بینظیرنواز مفاہمت: فوجی اقدام مسترد 14 May, 2006 | پاکستان بے نظیر، نواز ملاقات کی وڈیو کوریج14 May, 2006 | پاکستان پاکستان تو جائیں گے: بےنظیر، نواز14 May, 2006 | پاکستان لندن میں جمہوریت کا شو14 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||