BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 May, 2006, 11:30 GMT 16:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خوشی گیت گانے والے ناخوش ہو گئے

لوک فنکار
آج لوگوں کے پاس ہمارے لیئے نہ تو عزت ہے نہ محبت: لوک فنکاروں کا شکوہ
بدلتے حالات اور بدترین معاشی صورتحال نےگا بجا کر روزی کمانے والے روایتی گائیکوں اور میراسیوں کو ان کا موروثی پیشہ چھوڑنے پر مجبور کردیا ہے۔

روایات، ثقافت اور فن کے امین اس قبیلے کے لوگوں نے اپنے مورثی کام گانے بجانے سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔

روایات کے مطابق سندھ کے برادری نظام میں ہر برادری کے منگنھار الگ الگ ہوتے تھے، جو شادی بیاہ میں گانے بجانے کے علاوہ دعوتیں پہنچانےاور پیغام رسانی کا کام بھی کرتے تھے۔ اس کام کے عوض ہر فصل اترنے پران کا بھی حصہ رکھا جاتا تھا۔

بعض ’منگتے‘ زبانی تاریخ کے بھی امین تھے۔جو برادریوں کے مکمل شجرے بھی یاد رکھتے تھے جسے وہ شادی بیاہ کے موقعوں پر ترنم کے ساتھ پیش کرتے تھے۔

تاریخی حوالوں کے مطابق منگنھار (منگتوں) نے سندھ میں سماں دور حکومت سے سرداروں کی تعریف میں گانا بجانا شروع کیا اور سولہویں اور سترہویں صدی میں یہ سلسلہ عروج پر پہنچ گیا۔

ملکی سطح پر مقبولیت حاصل کرنے والی مائی بھاگی، استاد یوسف علی بھی منگنھار برادری سے تعلق رکھتے تھے۔

حیدرآباد میں گزشتہ ایک سو سال سے سُر اور ساز کے ذریعے روزی کمانے والے خاندان کے فرد نذیر فقیر نے بارہ سال کی عمر میں شرنائی بجانا شروع کی اور پوری زندگی اسی فن کے وقف کر دی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اب پہلے والی بات نہیں رہی۔ آج لوگوں کے پاس ہمارے لیئے نہ تو عزت ہے نہ محبت۔

لوک فنکار

شفیع فقیر جو اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ تقریبات میں شرنائی اور ڈھول بجاتے ہیں۔ وہ صرف ایک بیٹے کو تعلیم دلاسکا ہے۔ نو افراد کا کنبہ پالنے والے شفیع فقیر شکوہ کرتے ہیں کہ ان حالات میں وہ کیسے بچوں کو تعلیم دلوا سکتے ہیں۔ جبکہ کبھی روزی لگتی ہے کبھی نہیں۔گزارا ہی مشکل ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دھندہ بھی چھوڑ دیں تو فاقے کی نوبت آجائےگی۔

شفیع کا کہنا تھا کہ وہ اپنے موروثی گھر میں رہتے ہیں۔اچھا ہوا آباؤ اجدادگھر چھوڑ گئے، ورنہ اس نعمت سے بھی محروم ہوتے۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ بعض پیروں اور مرشدوں نے ڈھول بجانے کوحرام قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وہ جو پیر اور مرشد کر رہے ہیں وہ صحیح ہے۔

ڈھولک نواز مٹھو فقیر کا کہنا تھا کہ معاشرے میں ہماری عزت نہیں ہے۔ ہم اپنے شوق کی وجہ سے اس فن میں آگئے، کچھ اور کرتے تو بہتر تھا۔ وہ اپنے اس کام کو بھیک مانگنے کے برابر سمجھتا ہے ۔

فقیر پیار علی کہتے ہیں کہ اگر وہ کسی مستری سے کوئی فنی کام سیکھتے تو شاید بہتر ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ عمر کوٹ میں ان کی برادری کے ایک ہزار کے قریب گھر ہیں مگر ان میں سے بیس فیصد لوگ اس فن سے منسلک ہیں، باقی لوگ مزدوری کرتے ہیں۔

لوک فنکار
یہ لوک فنکار اپنے پیشے کی قدر و قیمت کم ہونے پر پریشانی۔

پیار علی کا کہنا تھا کہ راج برادری نے سرپرستی چھوڑ دی ہے۔ اب تو برادریوں کی خود کی بھی حالت اچھی نہیں ہے۔

لوک موسیقی میں مقبول فنکار صادق فقیر کا کہنا ہے کہ منگنھار کی ضروریات پہلے برادریاں پوری کرتیں تھیں۔ یوں کہیئے کہ برادری ان کو پالتی تھی۔

شادیوں، اور دیگر تقریبات میں ان کو کافی کچھ مل جاتا تھا جبکہ ہر گھر سے اناج بھی ملتا تھا۔ اگر کسی برادری کا فقیر ( منگنھار) برے حالات میں زندگی بسر کر رہا ہوتا تو یہ بات اس برادری کے لیے باعث شرم ہوتی تھی اور لوگ طعنے دیتے تھے کہ فلاں برادری کے فقیر کی ایسی حالت ہے وہ خود کیسے ہونگے۔

صادق فقیر کا کہنا ہے کہ اب صورتحال تبدیل ہے، جس وجہ سے اب ہمارے قبیلے کے اسی فیصد لوگوں نےگانے بجانے کا کام چھوڑ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچے ابھی پڑھ رہے ہیں اس لیے ان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ اپنا مورثی فن سیکھیں یا نہیں ۔

سندھ کے صوفی شعرا شاہ عبداللطیف، شاہ عنایت، سچل سرمست سمیت دیگر صوفی بزرگوں کی مزار پر بھی یہی فقیر ان کا کلام درست تلفظ کے ساتھ گاتے ہیں۔ مگر ان کی نوجوان نسل نے یہ کام چھوڑ دیا ہے۔ جس سے صوفی شاعری کا کا اصل تلفظ بھی خطرے سے دوچار ہے۔

منگنھار مسلمانوں کی خوشی میں شریک ہیں مگر ہندو راجپوتوں کے غموں کے بھی ساتھی ہیں۔

کلاسیکل گائیک استاد شفیع فقیر نے بتایا کہ جب کسی راجپوت کی وفات ہوتی ہے تو اس کے آخری سفر کے وقت مخصوص المیہ گیت گائے جاتے ہیں، پاکستان میں کوئی بھی ہندو منگنھاروں نہیں ہے ، اس لیئے یہ مسلمان ہی گاتے ہیں، ان کے مطابق منگھنار تو فقیر ہے جو سب کے لیئے گاتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد