BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
'کسی اور‘ کو ووٹ دینے کی سزا

سرحد اسمبلی
سرحد اسمبلی کے ان دونوں ارکان پر سینیٹ انتخابات میں پارٹی ڈسِپلن کی خلاف ورزی کرنے کا الزام ہے
صوبہ سرحد میں حکمراں جماعت اسلامی نے گزشتہ دنوں سینیٹ کے انتخابات کے دوران ووٹ کسی اور امیدوار کو دینے کے الزام میں دو اراکین صوبائی اسمبلی کی اسمبلی رکنیت ختم کرنے کے علاوہ انہیں جماعت سے خارج بھی کر دیا ہے۔

برطرف کیئے جانے والوں میں صوبائی وزیر کھیل اور بہبود آبادی راجہ فیصل زمان کے علاوہ ملک حیات خان شامل ہیں۔ راجہ فیصل زمان اکتوبر دو ہزار دو کے عام انتخابات میں ہری پور کے حلقہ پی ایف باون سے منتخب ہوئے تھے جبکہ ملک حیات کا تعلق دیر بالا سے ہے۔

اس بات کا اعلان جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کے صوبائی سیکریٹری جنرل مشتاق احمد خان نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں کیا۔

 برطرف کیئے جانے والوں میں صوبائی وزیر کھیل اور بہبود آبادی راجہ فیصل زمان کے علاوہ ملک حیات خان شامل ہیں۔ راجہ فیصل زمان اکتوبر دو ہزار دو کے عام انتخابات میں ہری پور کے حلقہ پی ایف باون سے منتخب ہوئے تھے جبکہ ملک حیات کا تعلق دیر بالا سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں پارٹی ڈسِپلن کی خلاف ورزی کے واقعے کی تحقیقات کے لیئے جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس نے دو ماہ تک چھان بین کے بعد اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق یہ دو افراد جماعت کی ہدایات کے خلاف ووٹ دینے کے مرتکب پائے گئے ہیں۔

اس سے قبل دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے دوسری بڑی جماعت جعمیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ نے بھی گزشتہ دنوں سینیٹ انتخابات میں دھاندلی کے الزام میں اپنے چار اراکین کو نہ صرف پارٹی سے نکالا بلکہ ان کی اسمبلی رکنیت بھی ختم کر دی تھی۔

مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ ان دو اراکین کے استعفے اسمبلی میں جمع کر دئیے گئے تھے جن کی منظوری کا اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے اعلی عدالتوں سے ووٹ خریدنے والوں کے خلاف از خود کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

ایوان بالا یا سینٹ کے گزشتہ مارچ میں منعقد ہونے والے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کو توقعات سے کافی کم ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ اس موقعہ پر ایم ایم اے نے اس ’گڑبڑ’ کی تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد