ایف بی آئی دفتر کھلنے پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دورافتادہ پہاڑی ضلع چترال میں جماعت اسلامی نے اتوار کے روز امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے مبینہ طور پر دفتر کھولنے کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا ہے۔ البتہ مرکزی حکومت کی جانب سے اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ چترال سے متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی عبدالاکبر چترالی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہوں نے مرکزی حکومت کو ایک ہفتے میں یہ مبینہ دفتر بند کرنے کی مہلت دی ہے جس کے بعد وسیع پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔ ان کا دعوی تھا کہ چترال کے تاریخی شاہی قلعہ میں گزشتہ چھ ماہ سے اس مبینہ دفتر کے کھولے جانے کی تیاریاں جاری تھیں۔ تاہم چار روز قبل امریکی کونسل خانے کی ایک گاڑی میں مشتبہ افراد اور بعد میں دو ٹرکوں میں ان کا سامان بھی لایا گیا جس سے بقول ان کے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ یہ دفتر ایف بی آئی کا ہی ہے۔ جماعت اسلامی نے آج چترال کے چیو پل سے ایک احتجاجی جلوس نکالا جس نے اتالیق بازار میں ایک جلسے کی شکل اختیار کر لی۔ سینکڑوں کی تعداد میں جماعت اسلامی کے مقامی کارکنوں اور رہنماؤں کے علاوہ اس احتجاج میں جماعت اسلامی کے نائب امیر اور پشاور سے رکن قومی اسمبلی شبیر احمد خان نے بھی شرکت کی۔ عبدالاکبر چترالی کا دعوی تھا کہ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کو اس معملے کا علم نہیں تاہم وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے اسے بند کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ دفتر چترال کے ساتھ افغانستان کے مشرقی صوبوں بدخشان اور نورستان سے ملتی ہیں جس کی وجہ سے اس سرحد پر نظر رکھنے کے لیئے قائم کیا گیا ہے۔ عبدالاکبر چترالی کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کے دفتر کی تصدیق پولیس کے مقامی اہلکاروں نے بھی کی ہے تاہم انہی کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر اعلی اور سیکرٹری داخلہ نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ مظاہرین نے امریکہ مخالف نعرہ بازی بھی کی تاہم بعد میں وہ پرامن طریقے سے منتشر ہوگئے۔ | اسی بارے میں حکومت بات چھپا کیوں رہی ہے؟05 May, 2005 | پاکستان خلفان غلانی سے تفتیش جاری30 July, 2004 | پاکستان ایف بی آئی پر چشم پوشی کا الزام24 May, 2005 | پاکستان کراچی: جائے وقوعہ پر ایف بی آئی05 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||