خلفان غلانی سے تفتیش جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی انٹیلیجنس کے اہلکار گجرات سے گرفتار کیے جانیوالے القاعدہ کے مبینہ رکن احمد خلفان غلانی اور دیگر افراد سے پاکستان میں القاعدہ کے کارکنوں کی موجودگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے پوچھ گچھ کررہے ہیں۔ اسلام آباد میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ احمد خلفان غلانی کے روپوش ساتھیوں کے بارے میں تفتیش کی جارہی ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے کہا کہ خفیہ ادارے پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور مشتبہ عناصر کی تلاش جاری ہے۔ خلفان غلانی کی گرفتاری کا اعلان تو جمعرات کو کیا گیا لیکن یہ سب کو معلوم ہے کہ انہیں چند روز قبل چودہ گھنٹے طویل محاصرے کے بعد گرفتار کیا تھا۔ بدھ کے روز صوبۂ پنجاب کی حکومت نے گجرات میں ایک پولیس تھانے اور دو چوکیوں کے تمام عملے کو بظاہر اس واقعے کے سلسلے میں معطل کردیا تھا۔ امریکی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کرنے سے گریز کی ہے کہ غلانی کی گرفتاری امریکی انٹیلیجنس کی جانب سے اطلاعات مہیا کیے جانے پر پیش آئی۔ امریکی محکمۂ تحقیقات ایف بی آئی کی ویب سائیٹ کے مطابق احمد خلفان غلانی کی گرفتاری کیلئے پانچ ملین ڈالر کا انعام رکھا گیا تھا۔ لیکن پاکستانی وزیرداخلہ نے کہا تھا کہ اس کے سر پر پچیس ملین ڈالر کا انعام ہے۔ خلفان غلانی پر انیس سو اٹھانوے میں مشرقی افریقہ کے ممالک تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارت خانوں پر ہونیوالے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ وزیر داخلہ فیصلہ صالح حیات کے مطابق گجرات میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں خلفان غلانی کے علاوہ چودہ افراد کی گرفتاری پیش آئی جن میں آٹھ عیرملکی تھے۔ ان میں خلفانی کی ازبک اہلیہ سمیت تین عورتیں اور بچے بھی ہیں۔ خلفانی کی پیدائش تنزانیہ میں ہوئی تھی۔ انیس سو اٹھانوے کے دھماکوں کے بعد اس نے پاکستان میں پناہ لی تھی۔ خلفان غلانی کو امریکہ کے حوالے کرنے کے بارے میں پاکستانی حکام نے ابھی کچھ نہیں کہا ہے۔ وزیرداخلہ فیصل صالح حیات نے کہا کہ پاکستانی خفیہ ادارے جب تک غلانی سے تفتیش مکمل نہیں کرلیتے ان کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے ارکان پاکستان کے مختلف شہروں میں چھپے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے پاکستانی انٹیلیجنس اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں القاعدہ کے پانچ سو سے زائد کارکن پاکستان میں مختلف مقامات سے گرفتار کیے گیے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||