قاضی حسین کی درخواست مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے چودہ روز سے نظر بند جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کے امیر قاضی حسین احمد کی نظر بندی کے خلاف درخواست فنی بنیادوں پر مسترد کردی ہے۔ قاضی حسین احمد کو متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کے سلسلہ میں چوبیس فروری کو ایک ماہ کے لیے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں نظر بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا تاہم وہ چھبیس فروری کو نظر بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے منصورہ سے باہر نکلے تو انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔ آج ہائی کورٹ کے جج زاہد بخاری نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انہوں نے میرٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ فنی بنیاد پر یہ رٹ درخواست مسترد کی ہے کیونکہ قاضی حسین احمد نے عدالت عالیہ سے پہلے محکمہ داخلہ (ہوم ڈیپارٹمنٹ) سے رجوع نہیں کیا۔ جج کے مطابق اس لیے یہ درخواست ہائیکورٹ کے سامنے قبل از وقت اور ناقابل پیش رفت ہے۔ جج نے کہا کہ ہائی کورٹ کے ایک پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ پہلے سے موجود ہے کہ نظر بندی کے خلاف پہلے صوبائی حکومت کے محکمہ داخلہ کو درخواست دی جانی چاہیے اور اس کے بعد ہائی کورٹ اس کی سماعت کرسکتی ہے۔ جج نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ اگر قاضی حیسن احمد درخواست دیں تو اس کا فیصلہ سات دن کے اند اندر کیاجائے۔ اس سے پہلے پنجاب حکومت نے قاضی حسین احمد کی نظر بندی کے بارے میں اپنے حکم نامہ کی وضاحت میں کہا تھا کہ انہوں نے متنازعہ خاکوں کے خلاف احتجاج کی آڑ میں حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور وہ حکومت کو ختم کرنے کا کہہ رہے تھے۔ | اسی بارے میں قاضی حسین احمد پھر نظر بند 24 February, 2006 | پاکستان ’پرویز مشرف ریفرنڈم کرائیں‘01 March, 2006 | پاکستان کارٹون احتجاج: ہڑتال، ٹرانسپورٹ بند03 March, 2006 | پاکستان ’بش کے دورے سے کچھ نہیں ملا‘04 March, 2006 | پاکستان کارٹون: کراچی میں’ملین مارچ‘05 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||