ریل حادثہ: ایک ہلاک ، تیس زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سے لاہور جانے والی ریل گاڑی قراقرم ایکسپریس پنجاب کے ضلع بہاولپور کے قصبے سمہ سٹہ کے قریب کلانچ والا کے مقام پر حادثے کا شکار ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں اس کی چار بوگیوں کے الٹنے اور گیارہ کے پٹڑی سے اترنے کی اطلاع ہے۔ حادثہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب صبح تین بج کر پندرہ منٹ کے قریب پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ٹرین کی الٹی ہوئی بوگیوں سے ایک خاتون کو مردہ جبکہ تیس افراد کو زخمی حالت میں بہاولپور کے بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔ ملتان میں ریلوے کے اسسٹنٹ ٹرانسپورٹیشن آفیسر آصف کا دعویٰ تھا کہ قراقرم ایکسپریس کی پندرہ میں سے صرف دو بوگیاں پٹڑی سے اتری ہیں۔ لیکن موقع پر موجود امدادی کارروائیوں میں مصروف ایدھی فاونڈیشن کے اہلکار محمد زبیر کے مطابق شروع کی چار بوگیاں الٹی جبکہ باقی ساری ٹرین پٹڑی سے اتری ہوئی ہے۔ جائے حادثہ سے متعلقہ مسافر خانہ پولیس سٹیشن کے اہلکاروں سے بات کی گئی تو انہوں نے بھی ایدھی فاونڈیشن کے امدادی کارکنوں کے بیان کی تصدیق کی ہے۔ بہاول وکٹوریہ ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر اسد کے مطابق اب تک لائے گئے تیس زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ہلاک ہونے والی خاتون کے بارے معلوم ہوا ہے کہ ان کا نام صابرہ مائی زوجہ نبی بخش ہے اور وہ لاہور کی رہنے والی تھیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔قراقرم ایکسپریس کو حادثہ پیش آنے کے بعد سے پاکستان بھر میں ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہے۔ ریلوے کے ملتان میں ڈویژنل ٹرانسپورٹیشن آفیسر حنیف گل کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات کے بارے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ خانیوال سٹیشن سے روانہ کی گئی امدادی ٹرین جائے حادثہ پر پہنچنے والی ہے اور ان کی اولین ترجیح ’ڈاون‘ ٹریک کے ذریعے ریل گاڑیوں کی آمد ورفت کو بحال کرانا ہے۔ کراچی سے ملک کے دوسرے شہروں کو جانے والی ریل گاڑیوں کو ’اپ‘ اور پشاور سے آنے والی ریل گاڑیوں کو ’ڈاؤن‘ کہا جاتا ہے۔ حنیف گل کے مطابق ریلوے کے وزیر مملکت اسحاق خاکوانی جائے حادثہ پر پہنچ چکے ہیں جبکہ وفاقی وزیر میاں شمیم حیدر بھی اس طرف روانہ ہیں۔ چند روز قبل پنجاب میں ہی جہلم کے قریب ڈومیلی کے مقام پر ٹرین اسلام آباد ایکسپریس بھی پٹڑی سے اتر گئی تھی جس کے نتیجے میں حکام کے مطابق چھ مسافر ہلاک جبکہ چوبیس کے لگ بھگ زخمی ہوئے تھے۔ اسلام آباد ایکسپریس کی طرح قراقرم ایکسپریس بھی مکمل طور پر چائنہ سے درآمد کردہ ہے۔کہا جا رہا ہے کہ اسلام آباد ایکسپریس کو پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقات مکمل ہونے میں ابھی دس روز مزید لگیں گے لیکن ریلوے کے وفاقی وزیر شمیم حیدر مسلسل دعویٰ کرتے آرہے ہیں کہ ڈومیلی کے قریب پیش آنے والا حادثہ تخریب کاری کا نتیجہ تھا۔ ریلوے کے ملتان ڈویژن میں ہی واقعہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے میں پچھلے ایک سال کے دوران بالعموم اور حالیہ دنوں میں بالخصوص ریلوے لائن کو متعدد بار نامعلوم افراد نے بارود کی مدد سے اڑایا ہے۔ تاہم ان واقعات میں کبھی کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ | اسی بارے میں گھوٹکی میں کیا دیکھا14 July, 2005 | پاکستان تیز گام کے ڈرائیور کہاں ہیں؟17 July, 2005 | پاکستان گھوٹکی حادثے کی رپورٹ طلب18 July, 2005 | پاکستان ٹرین کاحادثہ، 132 افرادہلاک 13 July, 2005 | پاکستان تین ٹرینیں کیسے ٹکرائیں؟13 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||