BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 January, 2006, 12:35 GMT 17:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکی سفیر ناپسندیدہ نہیں‘

ریان سی کروکر
’پاکستان امریکی سفیر کو ملک بدر نہیں کر رہا‘
پاکستانی دفترِ خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق صوبہ سرحد کی اسمبلی کی متفقہ قرارداد کے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان امریکی سفیر کو ناپسندیدہ شخص قرار نہیں دے گا۔

صوبہ سرحد کی اسمبلی نے پیر کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں باجوڑ ایجنسی میں امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس واقعہ پر احتجاج کے طور پر امریکی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک بدر کر دیا جائے۔ تاہم دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم سے جب اس قرارداد کے بارے میں سوال پوچھے گئے تو پہلے تو انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا مگر بعد میں کہا کہ پاکستان امریکی سفیر کو ملک بدر نہیں کر رہا۔

تسنیم اسلم سے جب پوچھا گیا کہ آیا امریکی حکومت نے پاکستانی حکومت کے اس واقعہ کے بارے میں کیے گئے احتجاج کے جواب میں کچھ کہا ہے تو ترجمان کا جواب تھا کہ امریکی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان نے امریکہ سے اس بارے میں احتجاج کیا ہے اور واقعہ کی مذمت بھی‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اس لیے شامل ہوا ہے کہ اسی میں ملک کا مفاد ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اس بارے میں کسی سے مفاہمت نہیں ہوئی ہے کہ کوئی بھی ملک پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس معاملے کو پاکستان،امریکہ اور افغانستان پر مشتمل سہ فریقی کمیشن کے سامنے اٹھائے گا۔

ترجمان نے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کے اس مشورے پر کہ پاکستان بھارت کو اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی میں مبصر کی حیثیت دلانے کے لیے تجویز کنندہ بن جائے، کہا کہ او آئی سی میں غیر اسلامی ممالک کو شامل کرنے کے بارے میں طریقۂ کار وضع کرنے کے لیے جلد ہی بات چیت ہو گی۔ تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ او آئی سی میں کسی غیر مسلم ملک کی بحیثیت مبصر شمولیت کے لیے پہلے سے تسلیم شدہ طریقہ کار کے مطابق ضروری ہے کہ اس غیر مسلم ملک کا او آئی سی میں شامل کسی ممبر ملک سے کوئی تنازعہ نہ ہو۔

اسی بارے میں
اپوزیشن کا وفد روک لیا گیا
23 January, 2006 | پاکستان
امریکی حملے نہ ہوں: مشرف
21 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد