’شدت پسندوں‘ کے مکانات مسمار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں حکام نے جمعہ کے روز تین مشتبہ شدت پسندوں کے چھ مکانات کو بارود سے اڑا دیا ہے۔ شمالی وزیرستان میں جہاں گزشتہ دنوں سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر حملے میں سات سپاہی ہلاک ہوگئے تھے، حکام نے تین مشتبہ افراد کے مکانات مسمار کر دیے ہیں۔ یہ چھ مکانات اسوخیل قبیلے کے انعام اللہ، سبیح اللہ اور اشناک نامی اشخاص اور ان کے رشتہ داروں کے بتائے جاتے ہیں۔ ان مکانات کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے تاہم اس دوران کوئی مزاحمت سامنے نہیں آئی اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ قدم حکومت کے ساتھ تعاون نہ کرنے کی سزا کے طور پر مقامی قبائلی رواج کے مطابق اٹھایا گیا ہے۔ پشاور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے گورنر سرحد خلیل الرحمٰن نے کہا ہے کہ جب شدت پسند حملے کرتے ہیں تو کوئی کچھ نہیں کہتا لیکن جب سکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو لوگ مذاکرات کا شور شروع کر دیتے ہیں جوکہ درست طریقہ نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||