45 پاکستانی ہلاک ہوئے: وزیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق کے مطابق حج کے دوران بھگدڑ کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں 45 پاکستانی شامل ہیں۔ بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منیٰ میں بھگدڑ کے دوران ہلاک ہونے والے 31 پاکستانی ایسے ہیں جو حج کی غرض سے سعودی عرب آئے تھے جبکہ آٹھ پاکستانی ملازمت کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم تھے۔ مسٹر اعجاز الحق کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے چھ افراد ایسے ہیں جن کے بارے میں یہ پتا چل چکا ہے کہ وہ پاکستانی شہری تھے لیکن ابھی تک ان کے نام و پتے معلوم نہیں ہو سکے۔ جمعرات کو ہونے والے اس حادثے میں 363 حجاج کرام ہلاک ہوئے جبکہ 45 ابھی تک مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ ابھی تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 10 کا تعلق مصر سے بتایا جاتا ہے جبکہ ان میں 44 انڈین، 6 چینی، 11 بنگلہ دیشی اور چھ ترکی کے شہری بھی شامل ہیں۔ وفاقی وزیر اعجاز الحق کے مطابق بھگدڑ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 53 پاکستانی حجاج کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا تھا لیکن ان میں سے زیادہ تر کو ریلیز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف دو خواتین اور ایک مرد حاجی پاکستانی مشن ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھگدڑ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی حجاج کی تدفین شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حج کے موقع پر ہلاک ہونے والوں کو وطن واپس لے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی اس لیے ہلاک ہونے والے پاکستانی حجاج کو سعودی عرب میں دفنایا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں مسٹر اعجاز الحق نے کہا کہ حج کے موقع پر ہلاک ہونے والوں کے ورثا کے لیے معاوضے کا اعلان عموماً سعودی حکومت کرتی ہے لیکن اس بار انہوں نے وزیر اعظم شوکت عزیز سے سفارش کی ہے کہ پاکستانی حکومت بھی ورثا کے لیے معاوضے کا اعلان کرے۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||