BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 December, 2005, 15:24 GMT 20:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تشدد سے ملی گواہی ناقابل قبول
تشدد کے خلاف مظاہرے میں شریک ایک شخص
تشدد کے خلاف مظاہرے میں شریک ایک شخص
برطانیہ کے دارالامراء میں لاء لارڈز نے تشدد سے حاصل کی گئی گواہی کو ناقابل قبول کہا ہے۔

لاء لارڈز نے کہا کہ دہشت گردی کے ملزمان سے خفیہ طور پر تشدد کر کے ملنے والی معلومات کو عدالتوں میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

لاء لارڈز کے اس فیصلے کے بعد برطانوی وزیر داخلہ کو ان تمام مقدمات کا از سر نو جائزہ لینا پڑے گا جن میں تشدد کے ذریعے معلومات حاصل کی گئی ہوں گی۔

یہ فیصلہ ان آٹھ افراد کے لیے بھی ایک کامیابی ہے جنہیں بغیر فرد جرم عائد کیے حراست میں رکھا گیا تھا۔

وزیر داخلہ نے کہا وہ لاء لارڈم کے اس فیصلہ کو قبول کرتے ہیں اور اس کا حکومت کی انسدا دہشت گردی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی معلومات استعمال نہیں کرتی جو تشدد سے حاصل کی گئی ہوں یا جن کے بارے شبہ ہو کہ وہ اس طریقے سے ملی ہیں۔

اسی بارے میں
رائس کی وضاحت سےیورپ مطمئن
08 December, 2005 | صفحۂ اول
’انسانیت کے خلاف جنگ‘: بش
07 October, 2005 | صفحۂ اول
بُش کی یورپ میں مشکلات
20 February, 2005 | صفحۂ اول
عراقی قیدی امریکی فوجی ہلاک
01 February, 2005 | صفحۂ اول
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد