تشدد سے ملی گواہی ناقابل قبول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے دارالامراء میں لاء لارڈز نے تشدد سے حاصل کی گئی گواہی کو ناقابل قبول کہا ہے۔ لاء لارڈز نے کہا کہ دہشت گردی کے ملزمان سے خفیہ طور پر تشدد کر کے ملنے والی معلومات کو عدالتوں میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ لاء لارڈز کے اس فیصلے کے بعد برطانوی وزیر داخلہ کو ان تمام مقدمات کا از سر نو جائزہ لینا پڑے گا جن میں تشدد کے ذریعے معلومات حاصل کی گئی ہوں گی۔ یہ فیصلہ ان آٹھ افراد کے لیے بھی ایک کامیابی ہے جنہیں بغیر فرد جرم عائد کیے حراست میں رکھا گیا تھا۔ وزیر داخلہ نے کہا وہ لاء لارڈم کے اس فیصلہ کو قبول کرتے ہیں اور اس کا حکومت کی انسدا دہشت گردی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی معلومات استعمال نہیں کرتی جو تشدد سے حاصل کی گئی ہوں یا جن کے بارے شبہ ہو کہ وہ اس طریقے سے ملی ہیں۔ | اسی بارے میں رائس کی وضاحت سےیورپ مطمئن 08 December, 2005 | صفحۂ اول بندوق لہراتے روس نواز چیچن رہنما26 November, 2005 | صفحۂ اول ’انسانیت کے خلاف جنگ‘: بش07 October, 2005 | صفحۂ اول ’دہشت گردی، منبع پر دھیان دیں‘13 September, 2005 | صفحۂ اول بُش کی یورپ میں مشکلات20 February, 2005 | صفحۂ اول عراقی قیدی امریکی فوجی ہلاک01 February, 2005 | صفحۂ اول بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||