BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 November, 2005, 12:41 GMT 17:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بندوق لہراتے روس نواز چیچن رہنما
رمضان قادیروو
ان کی کارروائیوں سے باغیوں کے حامیوں کو مزید جواز ملتا ہے: انسانی حقوق کی تنظیمیں
یہ کسی فلم کا منظر معلوم ہوتاہے۔ایک بڑی سی سیاہ گاڑی گاؤ ں کی تنگ گلیوں سے گزر رہی ہے۔گاڑی کے ٹائر رات کے اندھیرے میں سڑک پر رگڑ سے آواز پیدا کر رہے ہیں اور تیز رفتاری کی وجہ سے گاڑی ہچکولے لے رہی ہے۔

ڈرائیور گاڑی کے ایکسلریٹر پر دباؤ بڑھا رہا ہے اور سپیڈومیٹر پر سوئی ایک سو پچاس میل فی گھنٹہ کی رفتار دکھا رہی ہے۔

گاڑی تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد رکتی ہے۔ ڈرائیور شیشہ نیچے کر کے اندھیرے میں کسی کو سلام کرتا ہے۔ ’وعلیکم اسلام رمضان‘ امریکی وردی پہنے ایک باریش اور مسلح شخص جواب میں کہتا ہے۔

یہ چیچنیا میں سب سے زیادہ طاقتور سمجھے جانے والے شخص رمضان قادیروو کا گاؤں ہے۔ قادیروو ریاست کے وزیر اعظم ہیں اور در حقیقت وہی اس کے اصل حکمران ہیں۔

قادیروو کی ذاتی فوج بھی ہے۔ سرکاری طور پر اسے انسداد دہشت گردی سکواڈ کہا جاتا ہے لیکن عام اصطلاح میں اس فوج کے ارکان کو ’قادیروو کے آدمی‘ کہا جاتا ہے۔

قادیروو کا پالتو شیر
اس فوج میں کئی لوگ سابقہ باغی ہیں جنہوں نے انیس سو نوّے کی دہائی کے وسط میں روس کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا تھا لیکن وہ اپنی وفاداریاں تبدیل کر چکے ہیں۔

قادیروو نے گاڑی کے رکتے ہی سیٹی بجائی اور تیس سیکنڈ میں ان کے پوری طرح مسلح آدمی حکم کے لیے تیار کھڑے تھے۔ قادیروو کے آدمیوں کو سیٹی بجنے کے بعد تیاری کے لیے چالیس سیکنڈ دیے جاتے ہیں۔

قادیروو نے اپنے فوجیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’ان کو دیکھیں، امریکی وردی، روسی ہتھیار، اسلامی نظریات اور چیچن جذبہ۔ یہ ناقابل شکست ہیں‘۔

روس چیچنیا میں ’امن‘ کے قیام کے لیے قادیروو اور ان کے آدمیوں پر انحصار کر رہا ہے۔ یہ فوج روس کی ’چیچنائزیشن‘ پالیسی کی ایک زندہ مثال ہے۔ اب چیچنا میں انتظام کو روس کی فوج کی بجائے یہی لوگ چلاتے ہیں۔

قادیروو کا کہنا کہ ’ہم نے چیچنیا کو روس میں پر امن ترین علاقہ بنا دیا ہے اور عنقریب یہ دنیا کا بھی پر امن ترین علاقہ ہوگا اور لوگ یہاں چھٹیاں منانے آئیں گے‘۔

’ہمیں صرف چند اور شیطانوں کو مارنا ہے پھر کام مکمل ہو جائے گا۔ ہم امن چاہتے ہیں۔ اور اگر کوئی ہمارے ساتھ امن کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا تو ہم اس کو ایسا کرنے پر مجبور کر دیں گے‘۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اتنی پر امید نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’رمضان چیچنیا میں استحکام نہیں لا رہے۔ ان کی کارروائیوں سے باغیوں کے حامیوں کو مزید جواز ملتا ہے‘۔

ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ ان کی فوج کے ارکان مخالفین کو گرفتار کرتے ہیں اور پھر ان کا پتہ نہیں چلتا۔ قادیروو کی فوج پر لوگوں کو اغوا کرنے اور تشدد کا الزام لگایا جاتا ہے۔

قادیروو اس چیز سے انکار رکتے ہیں جبکہ روس بظاہر ان الزامات کو نظر انداز کر رہا ہے۔

اسی بارے میں
کوہ قاف کے باغی
04 September, 2004 | صفحۂ اول
چیچنیا کے نئے سربراہ
10 May, 2004 | صفحۂ اول
چیچن رہنما: روسیوں کو دھمکی
01 November, 2004 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد