BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 November, 2005, 15:51 GMT 20:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈونر کانفرنس کےلیے ریڈ الرٹ

اسلام آباد
شہر میں داخل ہونے والے تمام راستوں کی گزشتہ تین روز سے مکمل نگرانی کی جا رہی ہے
انیس نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والی ڈونرز کانفرنس کے موقع پر شہر میں ریڈ الرٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے اور دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

اس کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے علاوہ سو کے قریب ملکوں کے مندوبین کی شرکت متوقع ہے۔

ایس ایس پی اسلام آباد سکندر حیات نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ کراچی میں منگل کو ہونے والے دھماکے کے بعد سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دنوں سے اسلام آباد پولیس تمام ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسوں، پراپرٹی ڈیلروں، گاڑیاں کرائے پر دینے والی کمپنیوں کی چھان بین کر رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہر کی ہر شاہراہ اور شہر میں داخل ہونے والے تمام راستوں کی گزشتہ تین روز سے مکمل نگرانی کی جارہی ہے تاکہ کسی بھی مشتبہ شخص کے شہر میں داخل ہونے کا کوئی امکان نہ رہے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس کی مدد کے لیے فرنٹیئر کانسٹبلری کی دس پلاٹون کو اسلام آباد طلب کر لیا گیا ہے۔ ان نیم فوجی دستوں کو کانفرنس ہال اور ان ہوٹلوں کے اردگر تعینات کیا جائے گا جہاں غیر ملکی مندوبین قیام کریں گے۔

ایس ایس پی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے منگل کو اسلام آباد میں خصوصی میٹنگ ہوئی جس میں فوج کی مشہور ٹرپل ون بریگیڈ کے افسران نے بھی شرکت کی۔

اسلام آباد کی انتظامیہ کے حکام کے مطابق اس کانفرنس کے دوران سیکیورٹی کے وہی انتظامات کیے جائیں گے جو گزشتہ سال سارک سربراہ کانفرنس کے دوران کیے گئے تھے۔

دارالحکومت میں پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے والی سڑک شاہراہ دستور پر عام گاڑیوں کا داخلہ بند کر دیا جائے گا اور اس سڑک کو عملاً نو گو ایریا قرار دے دیا جائے گا۔

اس کانفرنس کے دوران اسلام آباد میں ہسپتالوں کو کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نبٹنے کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں ایک خصوصی کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے جہاں سے تمام انتظامات کو چوبیس گھنٹے جائزہ لیا جاتا رہے گا۔

اسی بارے میں
’ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘
28 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد