گلگت میں کرفیو کا دسواں روز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی علاقہ جات کے صدر مقام گلگت میں تقریباً ڈیڑھ سال سے فرقہ وارانہ کشیدگی اور قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے اور آج دس روز سے شہر میں کرفیو نافذ ہے اور شہر میں فوج گشت کررہی ہے۔ تاہم پاکستان کے میڈیا میں گلگت کی خبریں شائع نہیں ہوئیں۔ شائد آٹھ اکتوبر کے زلزلہ نے میڈیا کی توجہ گلگت کی طرف نہیں جانے دی۔ گلگت شہر میں پولیس نے تیرہ اکتوبر کو مسلسل دس گھنٹے تک ہونے والی اندھا دھند فائرنگ اور تیرہ ہلاکتوں کے بعد شیعہ اور سنی فرقوں کے سرکردہ رہنماؤں سمیت ساٹھ افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور تقریباً پونے دو سو مطلوبہ افراد کی گرفتاریوں کے لیے روزانہ چھاپے مار رہی ہے۔ گلگت میں اس وقت پولیس کے علاوہ ساڑھے تین ہزار رینجرز، سمیت فوج اور ناردرن اسکاؤٹس کے چھ ہزار جوان تعینات ہیں۔فوج اور رینجرز کے جوان پولیس کو چھاپے مارنے اور گرفتاریاں کرتے ہوئے کور دیتے ہیں۔ گلگت پولیس کے مطابق گرفتار کیے جانے والے شیعہ اور سنی فرقوں کے سرکردہ لوگوں کو اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔ گلگت شہر میں اس سال جنوری سے حالات کشیدہ ہیں جب ایک شیعہ عالم ضیاالدین رضوی کو قتل کیا گیا تھا۔یہ قتل گلگت کی اکثریتی شیعہ آبادی کے تعلیمی نصاب پر کیے جانے والے احتجاج کے پس منظر میں ہوا تھا۔ شیعہ علماء حکومت کے تعلیمی نصاب میں شامل پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک اسلامیات کی کتابوں کے کچھ ابواب میں تبدیلی کا مطالبہ کررہے تھے جو ان کے بقول شیعہ عقائد سے متصادم ہیں۔ مولانا ضیا الدین رضوی کے قتل کے بعد شیعہ علماء اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جس میں حکومت نے کہا تھا کہ وہ پورے ملک کے نصاب میں تبدیلیاں کررہی ہے۔ حکومت نے شیعہ آبادی کو یقین دلایا کہ عبوری طور پر اگر شیعہ طلباء یہ متنازعہ ابواب نہ پڑھنا چاہیں تو استاد انہیں یہ پڑھنے پر مجبور نہیں کریں گے اور امتحانات میں ان ابواب میں سے سوالات نہیں دیے جائیں گے۔ گلگت میں وفاقی بورڈ اور قراقرم یونیورسٹی میٹرک اور انٹر کے امتحانات لیتی ہے۔ اس وقت سے گلگت میں شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان مسلسل تناؤ کی کیفیت موجود رہی۔ شہر کی ڈیڑھ لاکھ آبادی میں سے ساٹھ فیصد شیعہ، تیس فیصد سنی (زیادہ تر دیوبندی) اور دس فیصد اسماعیلی شیعہ بتائے جاتے ہیں۔ مولانا رضوی کے قتل کے دو مہینے بعد مارچ میں گلگت میں شمالی علاقہ جات پولیس کے انسپکٹر جنرل سخی اللہ ترین کو قتل کردیا گیا تھا۔ جولائی میں شمالی علاقہ جت پولیس کے قائم مقام انسپکٹر جنرل آف پولیس نے بیان دیا تھا کہ شوٹ ٹو کل فارمولے کے تحت گلگت میں دہشت گردوں کو دیکھتے ہیں گولی مار دی جائے گی۔ تاہم اکتوبر میں گلگت کے حالات اس وقت بہت زیادہ خراب ہوگئے جب رینجرز نے ایک اسکول کے لڑکے کو اس الزام میں گرفتار کرلیا کہ اس نے گولی چلائی تھی۔ وہ لڑکا بعد میں ہلاک ہوگیا۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ رینجرز کے تشدد سے ہلاک ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق تیرہ اکتوبر کو اس لڑکے کی رینجرز کےہاتھوں گرفتاری پر امپہری اسکول کے کم عمر بچوں نے صبح کے وقت ایک احتجاجی جلوس نکالا۔ پولیس نے طلبا سے مذاکرات کیے لیکن ناکام ہوگئے۔ رینجرز نے جلوس منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ اس کے جواب میں بچوں نے ان پر پتھراؤ کیا۔ رینجرز نے ہوائی فائرنگ کی۔ جواب میں شیعہ آبادی سے ہوائی فائرنگ ہوئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رینجرز نے ہوائی فائرنگ کرنے والے لوگوں کو گرفتار کرنے کے لیے اس علاقے (راجہ بازار اور ڈاک پورہ محلہ) کو گھیرے میں لےلیا جہاں سے فائرنگ ہوئی تھی۔ اس محاصرہ کے وقت رینجرز پر دوبارہ فائرنگ ہوئی اور رینجرز نے جوابی فائرنگ کی۔ یہ فائرنگ کا سلسلہ پورے شہر میں پھیلتا چلا گیا جو گلگت کے لوگوں کے مطابق شہر کی بد ترین فائرنگ کا واقعہ تھا۔ اس اندھا دھند فائرنگ میں صبح نو بجے سے شام ساڑھے سات بجے تک دونوں اطراف سے فائرنگ ہوتی رہی جبکہ گیارہ بجے دن حکومت نےکرفیو نافذ کردیا تھا۔گلگت کے سینئر صحافی خورشید احمد خان کا کہنا ہے کہ تیرہ اکتوبر کو کم سے کم دو لاکھ گولیاں چلائی گئیں۔ صحافی کا کہنا ہے کہ بہت سے اور مکانوں کی طرح ان کے مکان کے دو کمرے اس فائرنگ میں چھلنی ہوگئے۔ تیرہ اکتوبر کے واقعہ میں اندھا دھند گولیوں کی زد میں آنے سے رینجرز کے دو جوانوں اور دو خواتین سمیت بارہ افراد ہلاک ہوئے۔ تیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے جن میں رینجرز کے سات جوان بھی شامل ہیں۔ تب سے آج تک گلگت مںی کرفیو نافذ ہے۔آج ہفتہ کے روز صبح نو بجے سے سے پہر تین بجے تک کرفیو میں نرمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز (جمعہ) کرفیو میں صبح آٹھ بجے سے گیارہ بجے دن تک نرمی کی گئی تھی۔ پولیس نے رینجرز اور فوج کی مدد سے اب تک سنی اور شیعہ فرقوں کے سرکردہ افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان پر انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایک شیعہ مسجد اور ایک سنی مسجد کو سیل کردیا گیا ہے۔ ان مسجدوں کے خطیبوں پر درج مقدمہ میں یہ الزام لگایا گیاہے کہ وہ مسجدوں سے اشتعال انگیزی کرکے لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکاتے تھے جس سے اٹھارہ ماہ سے یہاں بدامنی تھی۔ گرفتار کیے جانے والوں میں شیعہ خطیب مولانا آغا راحت الحسینی، شیخ مرزا علی، شیخ نیر عباس اور دیدار علی شامل ہیں۔ سنی فرقہ کے سرکردہ خطیب اور امام مسجد قاضی نثار احمد کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ تاہم ان کی جگہ ان کے بھائی نسیم احمد کو گرفتا رکیا گیا ہے۔ دوسرے گرفتار سرکردہ سنی رہنماؤں میں شمالی علاقہ جات کونسل کے رکن حمایت اللہ خان شامل ہیں۔ گلگت میں پہلی بار فرقہ وارانہ تشدد انیس سو بیاسی میں ہوا تھا جب مانسہرہ سے جانے والے ایک لشکر سے مقامی آبادی کے تصادم میں مقامی شیعہ آبادی کے سو سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔ تحیک جعفریہ کے صدر عارف حسین حسینی کا تعلق بھی شمالی علاہ جات (پارہ چنار) سے تھا جو انیس سو اٹھاسی میں قتل کردیے گئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||