BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 October, 2005, 10:23 GMT 15:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’برلن ائرلفٹ جیسی کارروائی چاہیے‘
بالاکوٹ کی ایک زخمی لڑکی
متاثرہ افراد کو آفت زدہ علاقے سے نکالنے کے لیے بھی پروازوں کی ضرورت ہے۔

امدادی کارروائیوں کے لیےاقوامِ متحدہ کے سربراہ ژاں ایگلین نے نیٹو پر زور دیا ہے کہ وہ سرد موسم کے آغاز سے قبل زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے’ برلن ائر لفٹ‘ جیسا ایک اور آپریشن شروع کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ امدادی کارروائیوں کے ایک ایسے ہی آپریشن کی ضرورت ہے جیسا کہ چالیس کے عشرے میں اتحادی افواج نے مشرق برلن میں کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سردی کے آغاز سے قبل متاثرہ علاقوں میں امداد اور خیموں کی ترسیل اور ہزاروں زخمی اور بے گھر افراد کو علاقے سے نکالنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ اور بہت سی جانیں جا سکتی ہیں۔

ژاں ایگلین نیٹو میں شامل چھبیس ممالک سے امداد کی اپیل کرنے کے لیے جمعہ کو برسلز میں نیٹو کے اجلاس میں بھی شریک ہو رہے ہیں۔ اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہونے سے قبل ان کا کہنا تھا کہ ’ میں نے نیٹو سے پہلے بھی کہا ہے اور میں اپنی اپیل دہراتا ہوں کہ سوچیے اور راہ نکالیے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہمالیہ کے پہاڑوں سے جس طرح لاکھوں افراد کو نکالا جا سکتا ہے تاہم دنیا کا سب سے فعال فوجی اتحاد اس کارروائی کے قابل ہونا چاہیے‘۔

نیٹو نے جمعرات کو نو سوٹن امدادی سامان پاکستان پہنچانے کے لیے اپنا آپریشن شروع کر دیا ہے تاہم ژاں ایگلین کا کہنا ہے کہ امداد پہنچانے کے آپریشن کے علاوہ متاثرہ افراد کو آفت زدہ علاقے سے نکالنے کے لیے بھی امدادی پروازوں کی ضرورت ہے۔

امریکہ نے بھی کہا ہے کہ اس کے مزید بیس ہیلی کاپٹر اگلے ہفتے سے پاکستان میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لینا شروع کر دیں گے جس کے بعد امدادی کارروائیوں میں شریک امریکی ہیلی کاپٹروں کی تعداد ساٹھ تک پہنچ جائے گی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے پچاس ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں اور اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے جبکہ اس آفت کے نتیجے میں تیس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر بھی ہوئے ہیں۔

پاکستان کے وفاقی ریلیف کمشنر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آفت بہت بڑی ہے اور اس نوعیت کی آفات کے بعد سنبھلنے اور اسے سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہر حادثے کے بعد بےضابطگیاں بھی دیکھنے میں آتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ ان پر کتنی جلدی قابو پا لیا جاتا ہے‘۔

66نقل مکانی کا آغاز
زلزلے سے بچ جانے والے نقل مکانی پر مجبور
66زلزلے کے تیرہ دن بعد
باغ کا شہر زلزلے کے تیرہ دن بعد: تصاویر میں
66رسائی سے محروم
کسی کو پتہ نہیں کتنے اب بھی مر رہے ہونگے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد