امریکی ہیلی کاپٹر پاکستان پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزیرِاعظم شوکت عزیز کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ لوگوں تک خوراک،دوائیاں، خیمے اور کمبل پہنچانے کے لیے امریکہ کے چھ چنوک سمیت آٹھ ہیلی کاپٹر پاکستان پہنچ گئے ہیں جو کل سے امدادی کاروائی کا آغاز کریں گے۔ اس کے علاوہ جرمنی سے بھی کچھ ہیلی کاپٹر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ وزیرِاعظم نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بین الاقوامی برادری نے پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی امداد کے لیے ایک سو ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے جو امدادی سامان اور بیرون ملک سے آنے والی امدادی ٹیموں کے علاوہ ہے۔ وزیرِاعظم کے مطابق پیر کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں تک جانے والی تمام سڑکیں کھل گئی ہیں اور اس طرح وہاں امدادی سامان پہنچانا آسان ہو گیا ہے۔ان کے مطابق تمام متاثرہ علاقوں تک امدادی ٹیموں کی رسائی ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں فیلڈ ہسپتال اور سرجیکل یونٹ قائم کئے جائیں گے تاکہ زخمی افراد کو وہیں علاج کی سہولت مہیا کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد متاثرہ افراد کو خوراک،دوائیوں،کمبلوں اور خیموں کی فراہمی ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ زلزلے سے سب سے زیادہ بالا کوٹ کا علاقہ متاثر ہوا ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ حکومت ان تمام علاقوں کی تعمیر نو کرے گی جو صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ بھارت کی طرف سے امداد کی پیشکش پر وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کی پیشکش پر غور ہو رہا ہے۔ ادھر پاکستانی حکومت نے وفاقی ریلیف کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے تاکہ زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد جاری امدادی کارروائیوں میں ربط پیدا کیا جا سکے۔ اس کمیشن کے قیام کا فیصلہ صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں وزیرِاعظم نے بھی شرکت کی۔ یہ کمیشن امدادی آپریشن کے سلسلے میں صوبائی حکومتوںت متعلقہ وزارتوں، غیر سرکاری تنظیموں، انجمن ہلال احمر اور دیگر بین الاقوامی ایجنسیوں سے رابطے میں رہے گا۔ پیر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی پاکستان اور کشمیری علاقوں میں امدادی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے چار کمیٹیوں کی تشکیل کا بھی فیصلہ کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||