BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 September, 2005, 18:40 GMT 23:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نجی ٹی وی نشریات احتجاجاً بند

پاکستانی نجی ٹی وی
نشریات بند ہونے کے بعد کئی ٹی وی چینلز نے کیبل آپریٹرز کے حق میں خبریں نشر کرنا شروع کردیں
پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز کے مالکان اور کیبل آپریٹرز کے درمیان اختلافات کی بنا پر بیشتر ٹی وی چینلز کی نشریات جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب رات آٹھ بجے سے دس بجے تک علامتی احتجاج کے طور پر کیبل آپریٹرز نے بند کردیں۔

کیبل آپریٹرز کی جانب سے نشریات بند کرنے کے بعد کئی ٹی وی چینلز نے کیبل آپریٹرز کے حق میں خبریں نشر کرنا شروع کردیں جس پر ان کی نشریات بحال کردی گئیں۔ جبکہ بعض چینلز کی نشریات دو گھنٹوں کے لیے بند رہیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں کیبل آپریٹرز کی تنظیم کے رہنما قاضی محمد افضل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چند روز قبل کراچی میں تمام ٹی وی چینلز کے مالکان نے اجلاس بلایا تھا اور ’براڈ کاسٹرز ایسو سی ایشن‘ بنائی تھی۔

ان کے مطابق ٹی وی چینلز کے مالکان نے ’پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، یعنی ’پیمرا‘ سے مطالبہ کیا تھا کہ کیبل آپریٹرز پر پابندی لگائی جائے تاکہ وہ ’سی ڈیز‘ والے چینلز پر اشہتار نہ چلاسکیں۔

ایسو سی ایشن کے نمائندے نے کہا کہ وہ ’سی ڈیز‘ والے چینل کے لیے ’پیمرا‘ کو سالانہ دو لاکھ روپے فیس ادا کرتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے علاقائی سطح کے اشتہار چلانا ان کا حق ہے۔

قاضی محمد افضل نے دعویٰ کیا کہ ٹی وی چینلز والے کروڑوں روپوں کے اشتہار لیتے ہیں جبکہ کیبل آپریٹر بمشکل اپنی روزی کماتے ہیں۔

ان کا دعویٰ تھا کہ اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی، لاہور اور دیگر کئی شہروں میں ان کی اپیل پر نشریات بند رہی۔ لیکن بی بی سی نے جب مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کیں تو کراچی اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں کئی جگہ پر نشریات جاری رہنے کی تصدیق ہوئی جبکہ بعض علاقوں میں نشریات بند بھی رہیں۔

البتہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے بیشر علاقوں میں پاکستانی ٹی وی چینلز کی نشریات رات آٹھ بجے بند ہوگئیں۔ نشریات بند ہوتے ہی رنگ ٹی وی، ’اے آر وائی، اور دیگر نے کیبل آپریٹرز کے حق میں خبریں نشر کرنا شروع کردیں اور ان کی نشریات بحال کردی گئی۔

جیو ٹی وی نے بھی اپنے ترجمان کے حوالے سے خبر نشر کی کہ انہیں کیبل ٹی وی آریٹرز پر کوئی اعتراض نہیں۔ جس کے تھوڑی دیر بعد ان کی نشریات بھی بحال ہوگئیں لیکن چند منٹوں بعد ان کی نشریات دوبارہ بند کردی گئیں۔

اس بارے میں قاضی محمد افضل نے بتایا کہ ’جیو ٹی وی‘ کی وضاحت مشکوک تھی اور انہوں نے ان سے کہا ہے کہ وہ یہ خبر نشر کریں کہ وہ کیبل آپریٹرز کے موقف کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔

کیبل آپریٹرز کے اعلان کے مطابق رات آٹھ سے دس بجے کے درمیان جیو ٹی وی، آج ٹی وی، کے ٹی این اور سندھ ٹی وی سمیت کچھ چینلز کی نشریات بند رہیں۔

کیبل آپریٹرز نے دس بجے تمام چینلز کی نشریات بحال کردی لیکن جیو اور دیگر ٹی وی چینلز جنہوں نے ان کی خواہش کے مطابق بیانات نہیں چلائے ان کو ابتدائی پوزیشن سے ہٹا کر آخری نمبروں پر چلانا شروع کردیا۔

واضح رہے کہ کیبل آپریٹرز کے ابتدائی نمبروں پر چلنے والے چینلز کی نشریات صاف دکھائی دیتی ہیں۔ جبکہ آخری نمبروں پر چلنے والے چینلز کی نشریات کمزور ’سگنلز‘ کی وجہ سے صاف نہیں آتی۔

کیبل آپریٹرز نے دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان کے بڑے ٹی وی چینلز کے مالکان نے ’پیمرا‘ پر کیبل آپریٹرز کے خلاف دباؤ ڈالا تو وہ ان چینلز پر نشر ہونے والے اشتہارات کے وقت ان کی نشریات بند کردیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے اندر الیکٹرانک میڈیا کے پھیلاؤ کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ان کی نشریات کیبل آپریٹرز نے احتجاجی طور پر بند کی ہوں۔

ٹی وی چینلز کے مالکان کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے معاملا طے کرلیں گے۔ جبکہ انہوں نے کیبل آپریٹرز کی جانب سے نشریات بند کرنے کے بارے میں حکومت کے کردار کے بارے میں بھی سوال اٹھایا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد