سیہون حادثات میں 40 افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شہر سیہون شریف کے قریب سڑک کے دو حادثوں میں انتظامیہ نے چالیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اس سے قبل اتوار کی صبح کو انتظامیہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ دونوں حادثات میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ پہلاحادثہ رات کو دس بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کے طلبا شہباز قلندر کے میلے میں شرکت کے لیے سیہون جا رہے تھے۔ اس حادثے میں پینتیس افراد ہلاک ہوئے۔ دوسرا حادثہ پہلے حادثے کی جگہ سے دس کلو میٹر کے فاصلے پر دو ائیر کنڈیشن مسافر بسوں کے ٹکرانے سے ہوا۔ حادثے کا شکار ہونے والی دونوں بسوں میں تصادم کے بعد آگ لگ گئی۔ ڈی ایس پی خالد جہتیال نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح تک یہ خدشہ تھا کہ کوچ میں سوار مسافروں میں سے تیس سے پینتیس افراد جل کر ہلاک ہوگئے ہیں۔ مگر آگ پر مکمل قابو پانے کے بعد کوچ سے صرف پانچ مسافروں کی جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں۔ جبکہ ایک کوچ خالی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس جب آگ بجھانے میں لگی ہوئی تھی تو زخمی وہاں سے چلے گئے۔ اس وجہ سے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کوچ میں کتنے مسافر سوار تھے اور کتنے باہر نکل آئے۔ واضح رہے کہ کراچی سے پولیس فاؤنڈیشن کی بس سیہوں جاری تھی اور عبدالرحمان کوچ سیہون سے آرہی تھی کہ ان کی ٹکر ہو گئیآ اس کے بعد بسوں کو آگ کے شعلوں نے گھیر لیا۔ ڈی ایس پی کے مطابق ایئر کنڈیشن کے پاس ٹکر لگنے کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ان کے مطابق قصور پولیس فاونڈیشن کی بس کے ڈرائیور کا تھا۔ پولیس کے مطابق جل کر ہلاک ہونے والوں کی شناخت ممکن ہی نہیں ہے۔ اس سے قبل سن کے علاقے کے نزدیک لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کی پوائنٹ بس اور کوچ میں تصادم ہوگیا تھا۔ سن کے تعلقہ پولیس آفیسر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حادثے میں پینتیس افراد ہلاک ہوئے۔ ان افراد کی لاشیں بعد میں سول ہسپتال حیدرآباد بھیج دی گئیں۔ لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر جان محمد میمن نے کہا کہ یونیورسٹی کی بس میں پچاس افراد سوار تھے۔ جس میں سے پچیس افراد ہلاک ہوگئے۔ جن میں طلبا بھی شامل ہیں۔ سن کے قریب حادثے میں زخمی ہونے والے ایک مریض نے بتایا کہ ’ہم میلہ دیکھنے کے لیے رات کو جامشورو سے نکلے تھے۔ سن شہر سے ہم تھوڑا آگے بڑھے ہی تھے کہ ندی کے اوپر سے ایک آتے ہوئے ٹریکٹر کو اچانک ایک کوچ نے کراس کیا اور ہماری بس سے ٹکرا گئی۔ بس میں سوار مستحکم بروھی نے بتایا کہ میلے سے واپسی پر بس چھت تک بھری ہوئی تھی۔ سن پل پر اوورٹیکنگ کرتے ہوئے کوچ دھماکے سے سامنے والی بس سے ٹکرا گئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||