گلگت چینی مال کی گزر گاہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکثر مغربی ممالک کے بڑے شہروں میں چائنا ٹاون پائے جاتے ہیں جہاں ایک ہی جگہ آپ کو چین سے متعلق یا وہاں کی بنی ہوئی اشیاء مل سکتی ہیں۔ پاکستان میں بھی ہمسایہ ملک چین سے آنے والے سامان کی بھرمار کی وجہ سے آپ کو اب تقریبًا ہر شہر میں چائنا بازار ملیں گے۔ ان میں شمالی علاقاجات کا صدر مقام گلگت بھی شامل ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ چینی سامان کا سیلاب ملک کے دیگر حصوں میں پھیلا ہی اس جگہ سے تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ گلگت کے وسعت میں ناردن لائٹ انفنٹری یا این ایل آئی کی سینکڑوں دکانوں پر مشتمل اس چائنا مارکیٹ میں آپ کو چین کے بنے کپڑے دھونے کے پاوڈر سے لے کر کھلونے، جوتے، کپڑا اور برقی آلات سب ملے گا۔ شرط صرف اتنی ہے کہ آپ کی جیب بھری ہو۔ خنجراب پاس کے سرحدی مقام سے روزانہ چینی سامان سے لدے ٹرک سینکڑوں کلومیٹر کے دشوار گزار پہاڑی راستے سے یہاں پہنچتے ہیں۔ چند ہلکے ہوجاتے ہیں جبکہ اکثر آگے دیگر علاقوں کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ چینی مال کی ایک ہی خاصیت ہے جس کی وجہ سے وہ مقبول ہے اور وہ ہے اس کا سستا ہونا۔ لیکن یہاں گلگت میں یہ ملک کے دیگر علاقوں سے مزید سستا ہے۔ اس کی وجہ اس کا چین کے قریب ہونا ہے۔ فضل منان اس بازار میں انیس سو پچانوے سے ایک دکان چلا رہے ہیں۔ آغاز میں چند برس کراکری فروخت کی لیکن پھر کھلونوں میں زیادہ منافع دیکھتے ہوئے اس جانب مڑ گئے۔ ان کی اسی مارکیٹ میں تزئین و آرائش کے سامان کی دکان بھی ہے۔ دونوں کے لیے سامان ان کا ایک تیسرا بھائی شنگھائی سے لاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چینی مال ایسا ہے کہ امیر سے امیر اور غریب سے غریب اسے خرید سکتا ہے۔ ان کے گاہکوں میں اکثریت غیر مقامی افراد یعنی ’نان لوکلز پنجاب‘ کی ہے۔ وہ تھوک بھی لیجاتے ہیں اور پرچون بھی۔ اسی دوکان پر پولیس میں بطور ڈرائیور کام کرنے والے غلام مصطفی بھی خریداری کرتے نظر آئے۔ انہوں نے بتایا کہ چھٹی پر گھر جا رہا تھا لہذا بچوں کے لیے کچھ خرید رہا ہے۔ ’بچوں کو خوش کرنے کے لیے یہ بہترین چیزیں ہیں اور ہماری حیثیت کے مطابق بھی ہیں۔ مہنگی چیزیں تو بہت ہیں لیکن ہم دس بیس روپے میں بچوں کا دل بہلا دیتے ہیں۔‘ اس بازار میں اکثر کاروبار صوبہ سرحد کے پٹھان کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ میں نے اسی بازار میں کپڑے کا کاروبار کرنے والے ایک پٹھان تاجر ابراہیم خان سے جاننا چاہی تو اس کا کہنا تھا کہ ’ان کی برادری یہاں کافی پرانی ہے۔ ہم چالیس پچاس برس سے یہ کاروبار کر رہے ہیں۔‘ ایک سوال کے جواب میں کہ مقامی گلگتی لوگ یہ کاروبار کیوں نہیں کرتے تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں تو اس بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں۔ چین سے لائے گئے کپڑوں میں سلطانہ نامی کپڑے کا سنا تو حیرت ہوئی اور اس کے بارے میں جاننا چاہا۔ ابراہیم نے بتایا کہ چینی کپڑے کا کوئی نام نہیں ہوتا وہ خود ہی اپنی پسند کا نام اسے دے دیتے ہیں۔ اس کپڑے میں کم از کم مجھے تو سلطانوں والی کوئی خاصیت نظر نہیں آئی۔ ریڈی میڈ گارمنٹس کی دوکانوں پر کپڑوں پہنے کئی بُت بھی چینی شکل و صورت والے نظر آئے۔ بازار کے بیچوں بیچ شہداء کارگل کی ایک یادگار بھی تعمیر کی گئی ہے جس کی ایک جانب تو صدر جنرل پرویز مشرف کی نقاب کشائی کی تختی نصب ہے جبکہ دوسری جانب صدر رفیق تارڑ کی ڈوگرہ راج کے خلاف بغاوت کرنے والوں کی یاد میں لگی تختی ہے۔ خیر اسی دکان پر ایک نوجوان لڑکی رضوانہ ایوب بھی تھیں۔ ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ خالہ کی شادی کے لئے وہ گھر والوں کے ساتھ خریداری کر رہی ہیں۔ گلگت آنے والے ملکی اور غیرملکی سیاحوں خصوصا خواتین کے لیے تو اس بازار میں خریداری ایک لازمی ضرورت بن چکی ہے۔ گلگت کے مخصوص حالات کا اثر اس بازار پر بھی پڑتا ہے لیکن پھر بھی یہ کافی منافع بخش انداز میں چل رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||