BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 September, 2005, 18:33 GMT 23:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گلگت والوں کی باتیں

بی بی سی سنگت کی شرکاء
گلگت میں بی بی سی سنگت کی شرکاء
شمالی علاقہ جات میں بات کہیں سے بھی شروع کریں گھوم پھر کر اس دلکش پہاڑی علاقے کی آئینی حثیت اور یہاں موجود فرقہ وارانہ کشیدگی پر آجائے گی۔ یہی موضوعات یہاں کے لوگوں کی زبان پر ہیں اور انہیں کا جواب اور حل وہ تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔

یہی سب کچھ بی بی سی اردو سروس کی سنگت مہم کے سلسلے میں گلگت میں منعقد تبادلہ خیال کی ایک محفل میں بھی سننے کو ملا۔ اس تبادلہ خیال کے لیے موضوع تھا ’شمالی علاقہ جات کی ترقی کیسے ممکن ہوگی؟‘ لیکن دو گھنٹے کی بحث کے اختتام پر معلوم ہوا کہ اس علاقے کی اہم ضرورت یہاں پائیدار امن کا قیام اور اس کی آئینی حیثیت کا تعین ہے۔

گلگت میں مخصوص حالات کی وجہ سے اس محفل کا انعقاد ہی آخری وقت تک غیریقینی رہا۔ یہی وجہ تھی کہ اس ملاقات میں مدعو مہمانوں کی تعداد بھی ابتدائی منصوبے سے کافی کم رکھی گئی۔ پھر بھی جنہیں دعوت دی سب آئے۔ اس کی بڑی وجہ گلگتیوں کے مطابق بی بی سی پر ان کا اعتقاد اور اعتماد ہے۔

تقریب کے آغاز میں گلگت کی پانچ اہم شخصیات کو تین منٹ تک بولنے کاموقعہ دیا گیا۔ پہلے شمالی علاقاجات کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو میر غضنفر علی خان، شمالی علاقہ جات کی قانون ساز کونسل کے سپیکر ملک محمد مسکین، علاقے کے نامور دانشور شیر باز برچہ، شمالی علاقہ جات میں سرکاری ہوٹلوں کے چین کے منتظم راجہ ریاض احمد خان اور رکن ڈسٹرکٹ کونسل گلگت امبر حسین ایڈووکیٹ شامل تھیں۔

میر غضنفر علی خان اور ملک محمد مسکین نے تصویر کا سرکاری رخ بتاتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی اعتبار سے بہت کام ہو رہا ہے تاہم اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ میر غضنفر نے ترقیاتی فنڈز جبکہ ملک مسکین نے امن کو علاقے کی اہم ضروریات قرار دیا۔

شیرباز برچہ نے امن کے لیے یہاں کا سکھ چین تباہ کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہ سو ستتر میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی تھی لیکن انگریزوں نے بزور طاقت اسے کچل دیا تھا۔

راجہ ریاض نے کہا کہ خراب حالات کے باوجود اس علاقے میں غیرملکی یا دیگر علاقوں کے سیاحوں کو کچھ نہیں کہا گیا۔ انہوں نے بھی امن کے قیام پر زور دیا۔

پینل کی خاتون رکن امبر حسین نے خواتین کے مسائل پر روشنی ڈالی اور تعلیمی سہولیات کی کمی اور بے روزگاری کو اکثر مسائل کی جڑ قرار دیا۔

مختصر تقاریر کے بعد سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا جس میں ابتداء میں تقریباً نوے فیصد شرکاء نے شمالی علاقاجات کی آئینی حثیت کے بارے میں پوچھا۔ تاہم قانون ساز کونسل کے اختیارات، فرقہ واریت اور سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات کے بارے میں پوچھا گیا۔

بی بی سی اجتماع میں گلگت میں بسنے والے تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ ان میں صحافی بھی تھے اور وکلاء بھی، استاد بھی تھے اور نوجوان طالب علم بھی۔

دوسرے سیشن میں شرکاء کو بی بی سی سے متعلق سوالات کرنے کی دعوت دی گئی۔ ان میں سامعین نے بی بی سی کی عراق اور افغانستان کی جنگوں کے دوران ’جانبدار کوریج‘ اور گلگت میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے جیسے الزامات لگائے گئے۔ بی بی سی سنگت کی ٹیم نے ان کے جوابات دینے کی کوشش کی۔

بعد میں شرکاء سے اس ملاقات کے بارے میں رائے جاننے کی کوشش کی تو وہ بھی ملی جلی نظر آئی۔ کسی نے اسے محض چائے پلانے کا بہانہ قرار دیا جبکہ کئی نے اسے تبادلہ خیال کا اہم ذریعہ مانا۔

بی بی سی سنگت کی ٹیم کا اگلا پڑاؤ اب ہنزہ کی دلکش وادی میں ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد