گورنمنٹ کالج اٹک کا ہاسٹل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گورنمنٹ ڈگری کالج اٹک کے صرف ہاسٹل کی عمارت کی حالت دیکھ کر پاکستان کے تعلیمی شعبے اور تعلیمی اداروں کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ گورنمنٹ کالج کی عمارت موجود ہے مگر اسے مخدوش قرار دے کر بند کر دیا گیا ہے۔ نئی عمارت کے لیے رقم مختص کی جاچکی ہے لیکن اس کی تعمیر شروع نہیں ہو سکی۔ اس صورت حال میں کالج کے طلباء انتہائی مشکلات کا شکار ہیں۔ گورنمنٹ ڈگری کالج اٹک کے ہاسٹل تقریباً دو سال سے بند پڑے ہیں اور وہاں کے درجنوں طالب علم بھاری اخراجات پر شہر میں پھیلے ہوئے گیسٹ ہاؤسوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ کالج کے پرنسپل مشتاق احمد اور ضلع ناظم میجر ریٹائرڈ طاہر صادق کا کہنا ہے کہ اگلے آٹھ دس ماہ میں نئے ہاسٹل تعمیر ہو جائیں گے جس کے بعد طالب علموں کی شکایات دور ہوں جائیں گی۔ ضلعی ناظم نے کہا کہ ہاسٹل کے لیے چھیاسٹھ لاکھ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔
بہت سے طالب علم انتہائی نا مساعد حالت میں شہر کے مختلف ’پلازوں‘ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ کالج کے پرنسپل کا کہنا تھا کہ کالج کا پرانا ہاسٹل انیس سو بائیس میں بنا تھا اور اب رہنے کے لیے ٹھیک نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نیو ہاسٹل انیس سو ستر میں بنا تھا لیکن وہ بھی رہنے کے قابل نہیں۔ تاہم کالج کے موجودہ اور سابق طالب علم اس وضاحت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ وہ ہاسٹلوں کی بندش کے لیے ضلعی سیاست کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کچھ ناپسندیدہ افراد ہاسٹل میں مداخلت کرتے تھے جس کی وجہ سے جھگڑا ہوا اور ہاسٹل بند ہو گئے۔ کالج کے پرنسپل نے بتایا کہ ہاسٹل سن دو ہزار تین کے موسم گرما میں بند ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال دسمبر تک ہاسٹل کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ یہ کسی نے واضح نہیں کیا کہ سن دو ہزار تین کے بعد سے جن طالب علموں کا نقصان ہوا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے اور جہاں کالج میں دیگر تعمیراتی کام ہو رہے ہیں وہاں ہاسٹل کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر کیوں حل نہیں ہوا؟
ملک پلازہ شہر کے ایسے مقامات میں سے ایک ہے جہاں بقول طالب علموں کے وہ بارہ سو روپے ماہوار فی کمرہ کرایہ پر رہتے ہیں۔ بجلی، پانی اور کھانے کا خرچہ اس کے علاوہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ بعض اچھے پلازوں میں ایک کمرے کا کرایہ سولہ سو روپے ماہوار ہے۔ یہ پلازے بعض اوقات ورکشاپوں میں گھرے ہوئے ہیں اور سڑک پر چلنے والی ٹریفک کے شور میں وہاں کسی قسم کی پڑھائی ممکن نہیں۔ ملک پلازہ کی چھت پر کرکٹ کھیلنے والے طالب علموں ندیم احمد اور محمد علی خان نے بتایا کہ ان کا تعلق چھب سے ہے جو اٹک سے ڈھائی گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ماہانہ اخراجات ڈھائی ہزار روپے کے قریب ہیں۔ ویلکم پلازہ میں رہنے والے طالب علم محمد قاسم نے بتایا کہ یہاں لوگ تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور ہر کوئی ایک ہی بچے کو پڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاسٹل میں اخراجات گیارہ سو کے قریب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ اب امتحانات کی تیاری کی کوئی جگہ نہیں۔ ملک پلازہ کے قریب ہی ایک گندہ سا ہوٹل ہےجہاں کئی طالب علم کھانا کھا رہے تھے اور کرکٹ میچ دیکھ رہے تھے۔ ان میں سے ایک محمد اکبر نے کہا کہ اگر اس وقت ان کو ایک چیز تبدیل کرنے کا اختیار دیا جائے تو وہ گورنمنٹ کالج کے ہاسٹل کھلوا دیں۔ انہوں نے کہا وہ پڑھنے کے لیے کالج کے لان میں درختوں کے سائے میں بیٹھتے تھے وہ بھی کٹوا دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پڑھائی کے لیے ہاکی سٹیڈیم بھی جاتے ہیں۔ محمد قاسم نے کہا کہ گھر والوں کو اچھا رزلٹ نہ ملنے پر تکلیف ہوتی ہے لیکن انہیں یہ نہیں سمجھایا جا سکتا کہ کالج میں حالات کیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالج کے ہاسٹل میں ایک تحفظ کا احساس ہوتا ہے لیکن ہوٹلوں میں نشہ فروخت کرنے والے افراد بھی آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے نئے آنے والے لڑکے بری عادات میں پڑ جاتے ہیں۔ ضلع میں تعلیم کی عمومی صورتحال کے بارے میں محمد اکبر نے بتایا کہ میٹرک پاس کرنے والے افراد میں سے پانچ فیصد لوگ کالج تا پہنچتے ہیں۔ محمد قاسم نے بتایا کہ دسویں میں ان کی جماعت میں ساٹھ لڑکے تھے جن میں سے صرف تین کالج تک پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے لڑکوں کے نمبر اچھے نہیں آئے اور باقی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||