جیکب آباد: سپنا شوہر کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے شہر جیکب آباد کی عدالت نے ایک ہندو لڑکی، سپنا عرف مہک، کو اس کے مسلمان شوہر کے حو الے کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپنا کے والد گیان چند نے دس دن قبل اپنی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ اس معاملے پر ہندو کمیونٹی نے بہت احتجاج کیا تھا۔ دوسری طرف سپنا کے بارے میں یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے مسلمان ہوکر شمس الدین سے شادی کرلی تھی۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جیکب آباد کی عدالت میں گزشتہ روز سپنا عرف مہک کو پیش کیا گیا۔ جہاں انہوں نے شمس الدین کے حق میں بیان ریکارڈ کروایا۔ سپنا کا کہنا تھا کہ اس نے بغیر کسی زور زبردستی کے اسلام قبول کیا ہے اور اپنی مرضی سے شمس الدین دستی سے شادی کی ہے۔ سپنا نے اپنے والد گیان چند کی جانب سے اغواء کے دائر کردے مقدمے کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ انہیں اغواء نہیں کیا گیا۔ عدالت نے مقدمہ خارج کرتے ہوئے سپنا کو شمس الدین کے حوالے کرنے کا حکم سنایا۔ دوسری جانب سپنا کے والدین نے ان سے ملنے سے انکار کردیا۔ سپنا کہ والد گیان چندنے کہا کہ انتظامیہ نے انہیں دھوکہ دیا ہے۔ ’ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ ہماری لڑکی سے تنہائی میں ملاقات کروائی جائے۔مگر ڈی پی او نے کہا کہ تھانے پر آکر ملاقات کریں۔ جس پر ہم نے انکار کیا۔‘ سپنا نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کو امید تھی کہ عدالت انہیں کے حق میں فیصلہ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر شمس الدین مسلمان نہیں ہوتے اور کسی مذہب سے تعلق رکھتے تو وہ اس مذہب کو قبول کرتی۔ شمس الدین کے پہلے سے شادی شدہ ہونے کے بارے میں سپنا نے بتایا کہ اس کا علم ان کو پہلے سے نہیں تھا۔ شادی کرنے کے دوسرے دن اسے معلوم ہوا۔ مگر وہ شمس الدین کے ساتھ خوش گوار زندگی گزار رہی ہے۔ والدین سے رشتہ برقرار رکھنے کے بارے میں سپنا کا کہنا تھا کہ اگر میرے والدین نے شمس الدین کو داماد کے طور پر قبول کیا تو وہ ان سے تعلق رکھے سکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||