مذاکرات: ناکام یا کامیاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی میڈیا اور بالخصوص ہندوستان کے زیادہ تر اخبارات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ نیویارک میں مشرف۔من موہن سنگھ مذاکرات ناکام ہوگئے یا ان میں خطرناک قسم کا تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے برعکس دونوں رہنماؤں کے مشترکہ بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ اس عشائیہ پر ہونے والی ملاقات میں کوئی بہت بڑا معرکہ تو سر نہیں کیا گیا لیکن جاری ڈائیلاگ میں پیش رفت ہوئی ہے۔ ملاقات کی طوالت اور مشترکہ اعلامیے کے اختصار سے میڈیا میں یہ نتیجہ نکال رہا ہے کہ مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ مثلاً جنوبی ایشیا کے تجزیہ کار ایس ڈی مونی کا کہنا ہے کہ ’یہ ظاہر ہے کہ مذاکرات میں پیش رکاوٹوں کو دور نہیں کیا جا سکا۔ ہمیں توقع تھی کہ ایک مفصل اعلامیہ جاری کیا جائے گا اور شاید اس کا ڈرافٹ بھی بن چکا تھا جو کہ جاری نہیں کیا گیا‘۔ اس کے برعکس مختصر مشترکہ اعلامیے کا انداز مثبت ہے اور اس میں کسی مسئلے کے ذکر سے احتراز نہیں کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیے میں صاف کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کو امن کے عمل میں ر کاوٹ کا سبب نہیں بننے دیا جائے گا، دہلی میں ہونے والے سابقہ فیصلوں پر جلد از جلد عمل کیا جائے گا۔ بڑھتی ہوئی تجارت اور عوام کے میل جول پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اس کے علاوہ کشمیر کے مسئلے کا منصفانہ حل تلاش کرنے کے لیے جدو جہد کا بھی مشترکہ اعلامیے میں واضح ذکر کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کا سب سے زیادہ مثبت نتیجہ تو یہ ہے کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے حساس پہلوؤں کا خیال رکھا اور ایک دوسرے کو رعایت دیتے ہوئے کہا کہ ان کو اپنے عوام کی تشفی کے لیے بھی بہت سے بیان دینا پڑتے ہیں جن کو اسی سیاق و سباق میں سمجھنا چاہئیے۔ جناب من موہن سنگھ کو جنرل مشرف سے شکایت تھی کہ انہوں نے جنرل اسمبلی کی تقریر میں کشمیر کا خصوصی ذکر کیوں کیا اور پاکستان کو یہ شکایت تھی کہ جناب من موہن سنگھ نے صدر بش کے ساتھ ملاقات میں یہ کیوں کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے لیے یہ ملاقات اتنی اہم تھی کہ صدر بش کے ساتھ ملاقات میں جناب من موہن سنگھ اور جنرل مشرف نے ایسے بیانات دئیے کہ جن سے لگ رہا تھا کہ وہ امریکہ کے ذریعے ایک دوسرے کو پیغام بھیج رہے ہیں۔ پاکستان نے صدر بش سے یہ درخواست کی کہ وہ ہندوستان پر دباؤ ڈالے کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے فوجیں کم کرے اور من موہن سنگھ نے یہ مطالبہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کو مکمل طور پر روکے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی تقاریر میں بھی دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو ہی مخاطب کیا۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ کی طرف سے دئیے گئے عشائیے کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عشائیے میں دونوں ملکوں کے امریکہ میں سفیر، وزراء خارجہ، قومی سیکورٹی چیف اور خارجہ سیکرٹریوں کے علاوہ کسی کو نہیں بلایا گیا تھا۔ ملاقات ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے دس بجے تک مقرر تھی لیکن جب دونوں وفد باہر نکلے تو رات کے بارہ بج چکے تھے۔ عشائیے سے پہلے جاری ہونے والے اطراف کے بیانات سے یہ ظاہر تھا کہ یہ ملاقات ایک دوسرے سے شکایات کے لیے کی گئی ہے کیونکہ کچھ عرصہ سے طرفین ناقدانہ بیان بازی میں الجھے ہوئے تھے۔ یہ بھی توقع کی جا رہی تھی کہ سیاچن اور رن کچھ جیسے مسائل کے فیصلوں کا اعلان کیا جائے گا۔ لگتا ہے کہ پاکستان چاہتا تھا کہ اس اعلان کے ساتھ ہندوستان کپوارہ اور بارہ مولا سے فوجیں نکالنے کا اعلان کرے۔ غالباً ہندوستان اس طرح کا اعلان کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا لہذا فیصلے کا اعلان موخر کردیا گیا۔ لیکن جاری کئے گئے اعلامیے اور طرفین کے بیانات سے یہ ظاہر ہے کہ امن ڈائیلاگ جاری ہے۔ دونوں ممالک اپنی اپنی معاشی ضرورتوں کے تحت امن قائم رکھنے پر مجبور ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||