BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 September, 2005, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملاقات ’اتفاقیہ‘ نہیں: اپوزیشن

پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات یکم ستمبر کو ہوئی
پاکستان کی سیاسی و دینی جماعتوں نے صدر پرویز مشرف اور اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون کی اقوام متحدہ کے دفاتر کی ایک راہداری میں غیر رسمی ملاقات کواتفاقیہ قرار دینے پر اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ملاقات پہلے سے طے شدہ تھی۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ سب اتفاقات پاکستانی حکومت کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جانب قدم ہیں۔

پاکستان اور اسرائیلی وزرا خارجہ کی ترکی کے دارالحکومت استنبول میں ملاقات کے بعد یہ دونوں ممالک کے سربراہان مملکت کے درمیان پہلی ملاقات تھی۔

اسرائیلی ٹیلی ویژن کے مطابق صدر مشرف نے اپنی بیوی صہبا مشرف کا ایرئیل شیرون سے تعارف بھی کروایا۔

اس ملاقات کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قائم مقام صدر مخدوم امین فہیم نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس ملاقات پر ان کو بھارتی اداکارہ مینا کماری پر فلمایا ہوا گانا یونہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے یاد آ رہا ہے جس میں پہلے اتفاقیہ ملاقات ہوئی اور پھر ایک زبر دست معاشقہ۔

ان کاکہنا تھا کہ بعض ملاقاتوں کو اتفاقیہ رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ وہ پہلے سے طے شدہ ہوتی ہیں۔

پاکستان کی دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے اس ملاقات کےبارے میں کہا کہ یہ ملاقات بالکل بھی اتفاقیہ نہیں تھی بلکہ یہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔

قاضی حسین احمد کے مطابق پاکستان اسرائیل تعلقات میں بہتری صدر مشرف کی امریکی صدر جارج بش سے تین سال قبل کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی ملاقات میں کیا گیا تھا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ نواز کے ترجمان صدیق الفاروق بھی اس ملاقات کے بارے میں دیگر سیاسی جماعتوں سے متفق نظر آئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور فلسطینی قیادت کی ان تعلقات پر نا راضگی کی وجہ سے اس ملاقات کو اتفاقیہ رنگ دیا گیا ہے۔

تاہم تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اس ملاقات کو اتفاقیہ مانتے ہیں ہے۔مگر ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف دونوں ممالک کو قریب لانے کی کوشش امریکہ کی نظر میں اپنی ذاتی حیثیت بڑھانے کے لئے کر رہے ہیں۔

جمعرات کو پاکستان کے سبھی اخبارات نے مشرف شیرون ملاقات کو اپنی شہ سرخیوں میں جگہ دی ہے۔

اس ملاقات سے ایک روز قبل ہی یہ خبر بھی آئی تھی کہ اسرائیل نے پاکستان پر سے تجارتی پابندیاں اٹھا لی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات پاکستان اور اسرائیل کو قریب لانے کا سبب بنیں گے۔ تاہم کیا دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات قائم ہو پائیں گے اس بارے میں ابھی پاکستانی حکومت نے کوئی واضح پالیسی بیان نہیں دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد