پاک افغان سرحد پر باڑ کی تجویز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے امریکہ کو پیش کش کی ہے کہ دہشت گردوں اور منشیات کے سمگلروں کی آمد و رفت روکنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑ تعمیر کی جائے۔ اس باڑ کی تعمیر کی پیش کش پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس سے نیو یارک میں ایک ملاقات کے دوران کی۔ کونڈو لیزا رائس سے صدر پر ویز مشرف کی ملاقات کی تفصیلات کے بارے میں پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا مقصد یہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں جہاں کافی شورشیں ہوتی رہی ہیں، ایسے عناصر کی آمدو رفت روکی جا سکے۔ اس دوران افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان میں موجود امریکی قیادت میں موجود غیر ملکی افواج دہشت گردی کو شکست دینے اور افغانستان میں امن کی خاطر اپنی حکمت عملی میں چند بنیادی تبدیلیوں پر سوچ بچار کریں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی اپنی حکومت بھی اس پالیسی کا نئے سرے سے جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے والے ذرائع پر توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے۔ اگرچہ انھوں نے تردید کی کہ ان ذرائع سے ان کی مراد پاکستان ہے۔ مگر بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کابل میں عام تاثر یہی ہے کہ دہشت گرد پاکستان کی سرحد عبور کر کے افغانستان میں داخل ہو تے ہیں۔ ادھر نیو یارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے ایسے تمام الزامات کی تردید کی کہ پاکستان دہشت گردی کو کچلنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کر رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں خورشید قصوری نے کہا کہ پاکستان غیر فوجی نوعیت کی جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے امریکہ سے مختلف سطحوں پر رابطہ قائم کیے ہوئے ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ انھیں صحیح طور پر علم نہیں مگر غالباً پاکستان کو پچہتر سے سو کے قریب امریکی ایف سولہ لڑاکا طیارے درکار ہو ں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا بھر سے اسلحہ کے انبار جمع کر رہا ہے مگر پاکستان کم سے کم ڈیٹیرینس کی پالیسی پر قائم رہے گا اور اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہو گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||