BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک افغان سرحد پر باڑ کی تجویز
یہ غلط ہے کہ ہم طالبان یا ان کے اتحادیوں سے ٹھیک طرح نہیں نمٹ رہے: قصوری
پاکستان نے امریکہ کو پیش کش کی ہے کہ دہشت گردوں اور منشیات کے سمگلروں کی آمد و رفت روکنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑ تعمیر کی جائے۔

اس باڑ کی تعمیر کی پیش کش پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس سے نیو یارک میں ایک ملاقات کے دوران کی۔

کونڈو لیزا رائس سے صدر پر ویز مشرف کی ملاقات کی تفصیلات کے بارے میں پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا مقصد یہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں جہاں کافی شورشیں ہوتی رہی ہیں، ایسے عناصر کی آمدو رفت روکی جا سکے۔

اس دوران افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان میں موجود امریکی قیادت میں موجود غیر ملکی افواج دہشت گردی کو شکست دینے اور افغانستان میں امن کی خاطر اپنی حکمت عملی میں چند بنیادی تبدیلیوں پر سوچ بچار کریں۔

حامد کرزئی

انہوں نے کہا کہ ان کی اپنی حکومت بھی اس پالیسی کا نئے سرے سے جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے والے ذرائع پر توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے۔ اگرچہ انھوں نے تردید کی کہ ان ذرائع سے ان کی مراد پاکستان ہے۔

مگر بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کابل میں عام تاثر یہی ہے کہ دہشت گرد پاکستان کی سرحد عبور کر کے افغانستان میں داخل ہو تے ہیں۔

ادھر نیو یارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے ایسے تمام الزامات کی تردید کی کہ پاکستان دہشت گردی کو کچلنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کر رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں خورشید قصوری نے کہا کہ پاکستان غیر فوجی نوعیت کی جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے امریکہ سے مختلف سطحوں پر رابطہ قائم کیے ہوئے ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ انھیں صحیح طور پر علم نہیں مگر غالباً پاکستان کو پچہتر سے سو کے قریب امریکی ایف سولہ لڑاکا طیارے درکار ہو ں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا بھر سے اسلحہ کے انبار جمع کر رہا ہے مگر پاکستان کم سے کم ڈیٹیرینس کی پالیسی پر قائم رہے گا اور اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہو گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد