منموہن نے مشرف کو کھانے پر بلایاہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نعیم خان نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے اہم ملاقات ہوگی اور بات چیت میں مسئلہ کشمیر سرفہرست ہوگا۔ انہوں نے ہفتہ وار بریفنگ کے موقع پر کہا کہ کسی ’بریک تھرو، کے بارے میں فی الوقت کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن ان کی ملاقات یقینن اہمیت کی حامل ہے۔ ترجمان نے کہا منموہن سنگھ نے صدر مشرف کو رات کے کھانے پر بلایا ہے جس کے بعد دونوں رہنما جامع مذاکرات میں تمام آٹھ نکات پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ بھی لیں گے۔ واضح رہے کہ صدر نے خود بھی روانگی سے قبل چکلالہ ائربیس پر سرکاری میڈیا سے بات چیت میں کہا تھا کہ کہ ان کے اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی ملاقات میں کشمیر کےمسئلے پر پیش رفت کی امید ہے۔ ایک سوال پر نعیم خان نے بھارتی میڈیا کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت پانے والے بھارتی شہری سربجیت کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت سے انکار کردیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ سربجیت سنگھ کے اہل خانہ نے تاحال ویزہ کے لیے درخواست ہی نہیں دی۔ تاہم انہوں نے اپنی بات دہرائی اور کہا کہ سربجیت کے پاس اب دو ہی قانونی راستے ہیں۔ ان کے مطابق یا تو وہ سپریم کورٹ میں سزا کے خلاف نظرثانی کی درخواست کریں یا صدر سے رحم کی اپیل۔ انہوں نے افغانستان سے دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے کئی اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ اس ضمن میں پاکستان پر امریکہ کا کوئی دباؤ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اکتوبر میں پاکستان کے پیٹرولیم کے وزیر دلی جائیں گے جبکہ دسمبر میں بھارت کے متعلقہ وزیر پاکستان آئیں گے اور اس سال کے آخر تک منصوبے کو حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔ امریکہ اور آسٹریلیا پر حملہ کرنے کے متعلق مبینہ طور پر القاعدہ کے رکن کی جانب سے دی جانے والی دھمکی جو انہوں نے پاکستان میں ’اے بی سی‘ ٹی وی کو دی ہے اس بارے میں ترجمان نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان تحقیقات کر رہا ہے تو ترجمان نے کہا کہ انہیں اس کا علم نہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ صدر پرویز مشرف ایک ہفتے کے دورے کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ امریکی صدر جارج بش سے بھی ملیں گے۔ ان کے مطابق امریکی صدر صرف روس، چین اور پاکستانی صدور سے ملاقات کر رہے ہیں۔ نیویارک میں قیام کے دوران صدر جنرل پرویز مشرف، چین، ایران اور آسٹریا کے صدور، برطانیہ، بنگلا دیش اور ناروے کے وزراء اعظم سمیت کچھ اور ممالک کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔ صدر امریکہ میں قیام کے دوران ’امریکن ، جیوش کونسل، سمیت مختلف سیاسی، کاروباری اور سماجی فورمز سے خطاب کریں گے اور جنرل ابی زید کی دعوت پر امریکی فوجی ہیڈ کوارٹر ’سینٹکام‘ کا بھی دورہ کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||