لاری جانی اسلام آباد میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے اعلی ترین جوہری مذاکرات کارلاری جانی پاکستان کے رہنماؤوں سے ایران کے جوہری معاملات پر بات چیت کے لیے ایک روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ علی لاری جانی کا دورۂ ایران کے جوہری پروگرام کے لیے غیر ملکی حمایت حاصل کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لاری جانی پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری سے با ضابطہ مذاکرات کریں گے جس کے بعد وہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز سے بھی ملاقات کریں گے۔ ایران کے اعلی ترین جوہری مذاکرات کار نےاس ہفتے کے اوائل میں پاکستان آنا تھا مگر انہوں نے اپنے دورے کو آخری وقت میں مؤخر کر دیا تھا جس کے بعد قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا کہ ایرانی حکومت نے پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات سے نالاں ہو کر یہ دورہ مؤخر کردیا تھا۔ تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی۔ لاری جانی گذشتہ ماہ بھارت بھی گئے تھے جہاں انہوں نے بھارتی رہنماؤں سے بات چیت کی تھی۔ پاکستان نے اس سال اپریل میں جوہری سینٹریفیوجز بھی ویانا میں عالمی جوہری ادارے (آئی اے ای اے) کو بھجوائے تھے جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں آئی اے ای اے کی مدد کرنا مقصود تھا۔ ان سینٹریفیوجز کے معائنے کی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ پاکستان نے یہ سینٹریفیوجز صدر جنرل پرویز مشرف کے اس بیان کے بعد بھجوائے تھے جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی کہلائے جانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایران کو اس کے جوہری پروگرام میں مدد دینے کے لیے جوہری سینٹریفیوجز اور دیگر آلات فراہم کیے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||