BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 August, 2005, 00:49 GMT 05:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تین جرائد کے ڈکلریشن منسوخ

فرائیڈے سپیشل
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جرائد قابل اعتراض مواد شائع کر رہے ہیں۔
سندھ حکومت نے کراچی سے شائع ہونے والے تین ہفت روزہ جرائد کے اشاعت کے اجازت نامے منسوخ کردئیے ہیں۔

ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسر سٹی گورنمنٹ کراچی، فضل الرحمان نے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ ہفت روزہ ’ضرب اسلام‘ ، ’وجود‘ اور ’فرائیڈے اسپیشل‘ کے ڈکلریشن محکمہ داخلہ اور سٹی پولیس سربراہ کی سفارشات کی روشنی میں منسوخ کئے جارہے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق پولیس اور محکمہ داخلہ نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ یہ جرائد قابل اعتراض مواد شائع کر رہے ہیں جو مختلف مکاتب فکر کے لوگوں میں شدت پسندی اور فرقہ واریت بڑھانے کا سبب بنے رہے ہیں اور امن و امان کامسئلہ بھی پیدا کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے حکم پر کالعدم تنظیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران قابل اعتراض مواد کی اشاعت پر ہفت روزہ ’وجود‘ کے مدیر محمد طاہراور ’فرائیڈے اسپیشل‘ کے ایسوسی ایٹ مدیر عبدالطیف ابو شامل کو گرفتار کیا گیا تھا۔ عبدالطیف ابو شامل حالیہ دنوں میں ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔

حکومت کے ایک دوسرے اعلامیے کے مطابق صوبائی حکومت نے ایک کتابچہ ’سچ لکھنا جرم ہے‘ اور ماہنامہ’ کارگل‘ کے شمارے بھی ضبط کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ ان میں قابل اعتراض مواد شامل تھا۔

جماعت اسلامی کے ترجمان اخبار جسارت کے انتظام کے تحت شائع ہونے والے جریدے فرائیڈے اسپیشل کے مدیر یحیٰ بن ذکریا صدیقی نے بی بی سی آن لائن کو بتایا کہ فرائیڈے اسپیشل جنرل مشرف کی فوجی حکومت کے خلاف مضبوط آواز بنے ہوئے تھے۔اس حکم سے صحافت کی اظہار کی آزادی کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔’ہم تمام قانونی طریقوں سے اس کے خلاف لڑینگے اور عوام کے پاس بھی جائینگے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ صرف ہمارا مسئلہ نہیں ہے آج جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے وہ کل دوسروں کیساتھ ہوسکتا ہے۔یہ سب کا مسئلہ ہے۔‘

یحیٰ بن ذکریا نے بتایا کہ وہ اس معاملے کو اخباری مالکان کی تنظیم آل پاکستان نیوز پیپرزسوسائیٹی کے پاس بھی لے جائینگے۔

اے پی این ایس کے سیکریٹری جنرل قاضی اسد عابد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو ابھی ان جرائد کی منسوخی کے بارے میں تفصیلات نہیں ملی ہیں۔ وہ پہلے یہ دیکھیں گے کہ کن الزامات کے تحت ان کے ڈکلریشن منسوخ کیے گئے ہیں اس کے بعد کوئی رائے دینگے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد