میرا صفحہ: جہادی ٹوپی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر آپ کو مجاہد بننا ہے تو یہ امریکہ میں کوئی مشکل کام نہیں، بس افغانی ٹوپی پہن لیجئے اور آپ پکے مجاہد ہوگئے۔ یہ وہی ٹوپی ہے جو پاکستان میں صوبہ سرحد اور بلوچستان میں عام ملتی ہے۔ یوں تو امریکہ میں آپ کسی سے امتیازی سلوک نہیں کرسکتے، اس وجہ سے کہ اس کا مذہب، کلچر یا کنٹری وغیرہ کون سی ہے، مگر خصوصا ہوائی اڈوں پر آپ کو اس اصول سے روگردانی صاف نظر آئے گی۔ امریکہ کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں عموما لوگوں کو تین کٹیگریز میں تقسیم کرتی ہیں۔ سفید فام امریکی شہری کٹیگری ون میں آتے ہیں، سیاہ فام امریکی شہری کٹیگری ٹو میں آتے ہیں اور باقی ایشین (سوائے انڈین اور پاکستانی کے) سب کٹیگری تین میں آتے ہیں۔ پاکستانی اور انڈین کے لئے سرے سے کوئی کٹیگری ہی نہیں ہے اور اس کا ثبوت آپ کو ان کے رویے سے ہوجاتا ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ مجھے یہ ٹوپی بہت پسند ہے اور میں ہر جگہ پہنے رہتا ہوں۔ آرلینڈو ہوائی اڈے پر مجھے صرف ٹوپی کی وجہ سے خصوصی چیکِنگ کے لئے بھیج دیا گیا۔ انہوں نے پوچھا کے ٹوپی کہاں سے لی ہے، میں نے اپنے آبائی شہر کا نام بتادیا جو انہیں نہیں پتہ تھا، انہوں نے میرے موبائل فون سے کی جانیوالی کال کے نمبر دیکھے اور کلیئر کردیا۔ دوسرا واقعہ یونیورسٹی کے کیفیٹیریا میں آیا۔ یہاں ہماری یونیورسٹی میں امریکی آرمی کی ٹریننگ ہوتی ہے۔ اس پروگرام کو یہاں ریزور آفیسرز ٹریننگ کہا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے کیڈٹ بھی ساتھ ہی لنچ کررہے تھے کہ ان میں سے ایک اچانک میرے پاس آیا اور پوچھا کہ ’آر یو مجاہد؟) یعنی کیا تم مجاہد ہو؟ اب اس کے منہ سے میں مجاہد کا لفظ سن کر بڑا حیران ہوا کہ اردو یا عربی کا لفظ وہ کیسے جانتا ہے۔ خیر میں نے اس سے کہا کہ آپ پہلے مجاہد کی تعریف بیان کرو، تو اس نے تین صفات بتائیں جس کی مدد سے وہ مجاہد اور غیرمجاہد کی تمیز کرتے ہیں۔ ایک، وہ جو اللہ کو مانتے ہیں۔ اب میں نے جواب دیا کہ اگر فنڈامینٹلِسٹ کا مطلب چودہ سو سال پہلے کی باتوں پر عمل کرنا اور صحابۂ کرام جیسی زندگی گزارنا ہے تو آپ کی دی ہوئی ڈیفینیشن سے تو میں بھی مجاہد ہوں۔ اس جواب کی اسےبالکل توقع نہیں تھی۔ میرے مزید پوچھنے پر کہ اس نے یہ سوال مجھ سے ہی کیوں پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ جو ٹوپی آپ نے پہنی ہوئی ہے، یہ القاعدہ اور اسامہ بن لادن گروپ کی نشانیوں میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے وہ حیران ہوکر میرے پاس آیا کہ میرا امریکہ میں داخلہ کیوں کر ممکن ہوا۔ افغانستان اور عراق کی جنگ کے بعد سے امریکہ میں امریکی آرمی والے کالج کے طالب علموں کو طرح طرح کی لالچ دیکر آرمی میں بھرتی کرنے کی کوششوں میں رہتے ہیں۔ آئے دن نوٹس بورڈ پر گوآرمی ڈاٹ کام کے اشتہار نظر آتے ہیں۔ گیارہ ستمبر کے بعد سے ہوائی اڈوں پر داڑھی والا آدمی انہیں اسامہ بن لادن ہی دکھتا ہے، خیر کوئی قصور نہیں ہے ان کا۔ مجھے بھی ہر کلین شیو جارج بش ہی نظر آتا ہے۔ تو آپ کا جب بھی امریکہ آنے کا موڈ ہو یہ افغانی ٹوپی لانا نہ بھولئے گا، آپ کو ہرجگہ خصوصی پروٹوکول ملے گا۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت آپ بھی اگر کسی موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں تو تصویر کے ساتھ ہمیں لکھ بھیجیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||