’میں مقابلے کاامتحان دوں گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ارشد محمود عباسی بینائی سے محروم ہیں اور وہ اس سال اگست میں سی ایس ایس، یعنی مقابلے کا امتحان دیں گے۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگا کہ بینائی سے محروم کوئی نوجوان مقابلے کے امتحان میں بیٹھے گا۔ میں نے ارشد محمود عباسی سے ان کی اب تک کی کامیابیوں اور آئندہ ارادوں کے بارے میں بات چیت کی۔ان کی باتیں ان ہی کی زبانی سنیے۔ ’زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہونا چاہیے، اور میری زندگی کامقصد ہے کہ میں پاکستان کا سب سے اعلی سول سروس کا امحتان ’سی ایس ایس‘ پاس کروں۔ میں مصروف میں اپنے اسی مقصد کے حصول کے لیے کوشش کر رہا ہوں۔ اس حقیقت کے باوجود کے میں بصارت سے محروم ہوں میں نے کبھی یہ نہیں سمجھا کہ میں کسی سے کم ہوں۔ کمی انسان کے رویے میں ہوتی ہے جسمانی معذوری کو میں معذوری نہیں سمجھتا۔ میں نے دوسرے بچوں کی طرح ایک عام سکول میں تعلیم حاصل کی۔ میٹرک تک کراچی میں پڑھا اور پھر ہم لوگ روالپنڈی آ گئے۔ یہاں آنے کے بعد میں نے پڑھائی جاری رکھی اورآخر کار نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز سے انگریزی کے مضمون میں ایم اے فرسٹ ڈوثزن میں پاس کیا۔ شروع ہی سے میری خواہش تھی کہ میں ’سی ایس ایس‘ کا امحتان پاس کروں۔ میں ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ قابلیت کا تعلق بصارت سے نہیں بلکہ دماغ سے ہے، اور جو لوگ بینائی سے محروم ہوتے ہیں ضروری نہیں کہ وہ ذہین بھی نہیں ہیں۔ اسی لیے میں نے شروع سے ہی اسی لائن پر اپنی پڑھائی جاری رکھی۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ بینائی سے محروم لوگوں کو مقابلے کے امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔ یہ جان کرمجھے بہت دکھ ہوا لیکن پھر بھی میں نے ہمت نہیں ہاری اوراپنی پڑھائی اُسی جذبے سے جاری رکھی۔ اب اللہ کا شکر ہے کہ حکومت نے بصارت سے محروم لوگوں کو بھی مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دے دی ہے۔ میں اور میری طرح کے دیگر دوست کسی کوٹے کی بنیاد پر اس امتحان میں شریک نہیں ہونگے بلکہ اوپن میرٹ پر حصہ لیں گے تاکہ کسی کو یہ شک نہ رہے کہ ہم نے کسی کوٹے یامخصوص نشت پرامتحان پاس کیا ہے۔ میرے دن کا زیادہ طرح حصہ اپنی پڑھائی میں گزرتا ہے اس سلسلے میں کمپیوٹر میرا بہت مددگار ہوتا ہے۔ اب مارکیٹ میں ایسے بہت سے سافٹ وئیر آ گئے ہیں جن کی مدد سے ہم لوگ کمپیوٹر پر چھپے ہوئے مواد کو سُن سکتے ہیں۔ میرے پاس اس وقت کمپیوٹر میں چار ہزار سے زائد کتابیں الیکٹرانک فارم میں محفوظ ہیں جن میں ہر موضوع پر کتاب ہے۔سب سے زیادہ کتابیں سیاست کے موضوع ہر ہیں۔ان میں سے میں تقریباً دو ہزار کتابیں پڑھ چُکا ہوں جبکہ باقی بھی آہستہ آہستہ پڑھ رہا ہوں۔ ان کتابوں کے علاوہ میں روزانہ اخبارت بھی پڑھتا ہوں فرق صرف اتنا ہے کہ عام لوگ آنکھوں کی مدد سے اخبارات پڑھتے ہیں اور میں سُن کر اپنے ذہن سے پڑھتا ہوں۔ میرے پاس اس وقت کمپیوٹر میں تین ہزار سے زائد کالم اور مضامین بھی محفوظ ہیں جو تقریباً سب کے سب میں پڑھ چُکا ہوں۔ یہ تمام کام میرے مقابلے کے امتحان کی تیاری کے سلسلے میں ہی ہیں۔ اس وقت حکومت پاکستان کے گیارہ ایسے محکمے ہیں جن میں ’سی ایس ایس‘ کے امتحان میں کامیابی کے بعد ملازمت حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن معذور افراد، جن میں بصارت سے محروم افراد بھی شامل ہیں، صرف چار محکموں میں جا سکتے ہیں۔ جہاں تک میرا اپنا پسند کا تعلق ہے میں فارن سروسز میں جانا چاہتا تھا لیکن ابھی یہ محکمہ ہم لوگوں کے لیے نہیں کھولا گیا ہے۔اگرامتحان میں کامیاب ہو گیا تو انفارمیشن سروسز میں جاؤں گا۔ مجھے کسی محرومی کا دُکھ نہیں ہے لیکن میرا دل اُس وقت پریشان ہوتا ہے جب لوگ ہم جیسوں کو کسی اعتبار سے کم تصور کرتے ہیں۔ معاشرے کی سوچ میں مثبت تبدیلی کی ضرورت ہے۔ میں تو صرف یہی سمجھتا ہوں کہ اگر انسان کے حوصلے بلند ہوں تو بہت بڑے بڑے چیلنج چھوٹے ہو جاتے ہیں اور کوئی شخص ہمت ہار دے تو بہت معمولی سا کام بھی پہاڑ بن جاتا ہے۔ میرے ارادے بلند ہیں اور میں اس مقابلے کے امتحان میں انشاءاللہ ضرور کامیاب ہوں گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||