BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 April, 2005, 18:40 GMT 23:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ورزش، صحت اور جمہوری خیالات

اپنے وزن پر نظر رکھنا موجودہ دور میں زندگی کا معمول بن چکا ہے۔
اپنے وزن پر نظر رکھنا موجودہ دور میں زندگی کا معمول بن چکا ہے۔
مجھے اس بات کا خیال پجھلے دنوں یہ خبر پڑھ کر ہوا کہ گوجرانوالہ میں خواتین کی میرا تھن دوڑ کےخلاف کچھ سیاسی جماعتوں کی طرف سے احتجاج کیا گیا ہے۔

پاکستان میں لوگوں کی اوسط عمر ساٹھ سال ہے جب کہ مغربی ممالک میں مردوں کے لیےتقریباُ اسُی سال اور عورتوں کے لیے پچاسی سال۔سوسال سےزیادہ عمر کے لوگ یہاں آپ کو ہزاروں کی تعداد میں ملیں گے۔وجہ صاف ظاہر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں پر لوگ باقاعدگی سے ورزش یا جوگنگ کرتے ہیں۔

روزانہ سوٹزر لینڈ کے فٹ پاتھوں پر نہ صرف جوان مرد اور عورتیں بلکہ بوڑھے بھی بھاگتے دکھائی دیتے ہیں۔ دوڑنے سے روکنا تو دور کی بات ہے، کوئی انہیں پلٹ کر بھی نہیں دیکھتا۔

میں اپنے دوستوں یا عزیزوں پر نظر ڈالتا ہوں اورصحت سے متعلق ان کی عادات کو دیکھتا ہوں تو سچ پوچھیں یہی لگتا ہے کہ ہم لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال نہیں رکھتے جس کی وجہ سے ایک بھرپور زندگی گذارنے سے محروم رہتے ہیں۔

میری اہلیہ کو ہی لے لیجیے۔ جب بھی انہیں چہل قدمی کے لیے ساتھ چلنے کو کہا، ان کا جواب ہوتا کہ وہ بچوں کے ساتھ مصروف ہیں۔ نتیجہ یہ کہ وہ فربہ ہوتی گئیں اور شوگر کی مریضہ بھی۔روزصبح خود کو انسولین کا ٹیکہ لگانا ان کا معمول بن گیا۔ چند سال اسی حالت میں گزارنے کے بعد انہوں نے واک کے لیے جانا شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ کہ انسولین کے انجیکشن سے جان چھوٹ گئی ہے۔

میرے ایک دوست شفقت کی کہانی بھی کچھ یوں ہی ہے۔ پانچ سال پہلے ان کا وزن بڑھنے لگا۔ ایک دفعہ انہیں بھی جاگنگ کرنے کی ترغیب دی لیکن ان کا جواب تھا کہ وقت نہیں ہے۔انہیں بھی شوگر کا مرض ہو چکا ہے۔ جتنا وقت وہ اب ڈاکٹروں کو دیتے ہیں اگر اس وقت ورزش کو دیتے تو شاید آج شوگر سے محفوظ ہوتے۔

حمید خان ایک بڑے مصروف وکیل ہیں اورخاصے امیر بھی۔ جو کام پیدل جا کر بھی ہو سکتا ہے اس کے لیے بھی ہمیشہ کار میں جانا ہی پسند کیا۔ نتیجہ یہ کہ پینتالیس سال کی کم عمر میں دل کا بائی پاس آپریشن کرانا پڑا۔ جانتے ہیں آپریشن کے بعد ڈاکٹر نے کیا کہا؟ ’ اب تمہاری زندگی کاضامن تمہارا دل نہیں بلکہ تہماری ٹانگیں ہیں، جتاچلوگے اتنا جیوگے‘۔

اس موقعہ پر ہمارے گاؤں کی ایک ہردلعزیز شخصیت عطامحمد کا ذکر بھی ضروری ہے۔نہایت ہنس مکھ آدمی تھےاور ساری زندگی ہر کسی کی مدد کی۔ کھیتوں میں کام کرتے تھے اور کھانے میں تھوڑے سے دھی کے ساتھ سبزی کھاتے تھے۔ گوشت کم ہی کھایا۔پاکستان میں میرے جاننے والوں میں وہ شاید سب سے زیادہ، یعنی اٹھانوے برس جیے۔

میرے اپنے والد صاحب جوانی میں اچھے اتھلیٹ اور ہاکی کے کھلاڑی رہے۔ روزانہ صبح دو گھنٹے واک کیا کرتے تھے۔کتابیں پڑھنے کا شغف رکھتے تھے۔گو کہ ان کے اس شوق میں تو میں نے ان کا بیٹا ہونے کا حق ادا کیا لیکن کھیلوں میں کوئی زیادہ دلچسمی نہ لے سکا۔

میں کھلاڑی تو نہ بنا لیکن واک اور جاگنگ کے معاملے میں والد صاحب کی نصیحتوں پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔

گھر سے قریب کے کام کے لیےہمیشہ چل کر جاتا ہوں اورسادہ خوراک کھاتا ہوں۔پورے دن میں چائے کی ایک پیالی پیتا ہوں۔ شکر اور نمک کم سے کم استعمال کرتا ہوں۔ اسی طرح گوشت کم کھاتا ہوں اور سبزیاں زیادہ۔ جب گھر پر ہوتا ہوں تو لیٹے لیٹے پیٹ کی ورزش کر لیتا ہوں۔

آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ گوجرانوالہ کی میراتھن کو لےکر میں بھی کن قصوں میں پڑ گیا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ قوموں کی زندگی میں انفرادی سطح پر صحت مندانہ عادتوں کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ جو لوگ جمالیاتی ذوق رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ سمارٹ لوگوں کو دیکھنا اور خود سمارٹ لگنا آپ کی سوچ پر کتنے اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اور جو لوگ جمالیاتی ذوق نہیں رکھتے وہ اکثر وبیشتر اپنا طرز زندگی دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں اور غیر جمہوری ہوتے ہیں۔



بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت اگر آپ بھی کسی موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد