پولیس کریک ڈاؤن میں سست روی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مبینہ مذہبی شدت پسندوں کے خلاف پولیس کی جانب سے تیزی سے شروع کیا گیا کریک ڈاؤن سست روی کا شکار ہوگیا ہے۔ قانونی ماہرین اس کی وجہ حکمت عملی کا فقدان ، پولیس کی لاعلمی اور متعلقہ قانون میں لچک قرار دے رہے ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے حال ہی میں کالعدم اور انتہا پسند تنظیموں اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا جس پر کراچی پولیس نے فوری عمل کرتے ہوئے دو دنوں میں ساٹھ سے زائد افراد کو پکڑ لیا۔ پولیس نے ان میں سے اکثر کے خلاف انسداد دہشتگردی کے قانون ( انسداد دہشت گردی ایکٹ) کے شیڈول چار کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمات درج کئے تھے۔ جو قانون کے مطابق اتنا سنگین جرم نہیں بنتا۔ نتیجے میں عدالت نے ان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ شیڈول چار کیا ہے؟ حکومت نے ایک نوٹیفیکشن جاری کرکےانسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت کالعدم اور انتہا پسند یا فرقہ وارانہ تنظیموں کے کارکنوں کی ایک لسٹ بنانے کی ہدایت کی ہے جو دہشت گردی کے خلاف ایکٹ کے چوتھے شیڈول کا حصہ ہے۔ چوتھے شیڈول میں ہر ٹاؤن پولیس افسر کو ذمہ دارٹھہرایا گیا ہے کہ وہ ایسے کارکنوں اور رہنماؤں سے نیک چال چلن کی تین سال کے لیے یقین دہانی کروائے۔ اس شیڈول کے تحت ایسے کارکن کہیں بھی جانے سےقبل متعلقہ تھانے کو بتانے کے پابند ہوتے ہیں۔ جبکہ وہ کسی فریق کے خلاف تقاریر نہیں کرنے اور ضمانت نامے پر عمل کرنے کے بھی پابند ہوتے ہیں۔ جو ضمانت نامے پر عمل نہیں کرتے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔ اس ضمانت نامہ کے تحت متعلقہ شخص علاقے چھوڑنے سےقبل پولیس کو مطلع کرے گا۔ اس کو کسی بھی علاقے میں رہنے کے لئے پابند کیا جا سکتا ہے۔ شیڈول چار کے مطابق ایسے کارکن کو اس بات کا بھی پابند کیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی سکول یا کالج میں جہاں اکیس سال سے کم عمر کے لوگ پڑھتے ہوں نہیں جائےگا۔ نہ ہی پبلک پارک، عوامی مقامامات، ریڈیو اور ٹی وی سٹیشن پر جائے گا۔اس کی خلاف ورزی کرنے پر انسداد دہشتگردی کے قانون کی شق گیارہ ڈبل اے کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ایکٹ کے تحت جس جرم کی سزا تین سال سے کم ہو، قابل ضمانت ہے جس وجہ سے پولیس کی پکڑ دھکڑ سست روی کا شکار ہو گئی۔ حالیہ کریک ڈاؤن میں حصہ لینے والے ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ پولیس کو اس بات کا علم ہے کہ جو دفعات لاگو کی جارہی ہیں وہ قابل ضمانت ہیں لیکن جس قانون کا سہارا لیکر کارروائی کی جا رہی ہے اس میں اتنا ہی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ مزید کارروائی کے لئے ٹھوس ثبوتوں کی ضرورت ہوگی۔ حکومت سے تعلق رکھنے والے ایک قانونی ماہر نے بتایا کہ پولیس کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ جس جرم میں وہ مقدمہ درج کر رہے ہیں وہ قابل ضمانت ہے۔ لہٰذا جس تیزی سےگرفتاریاں ہوئیں اسی تیزی سے ضمانتیں بھی ہوگئیں۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ سندھ کے آئی جی پولیس کے جبکہ خاص قوانین اور مقامی قوانین جس میں دہشت گردی کے خلاف ایکٹ بھی شامل ہے ان کی تحقیقات آپریشن پولیس کرےگی۔ اس حکمنامے کی روشنی میں موجودہ کریک ڈاؤن میں جوگرفتاریاں ہوئیں یا مقدمات درج ہوئے وہ آپریشن پولیس نے ہی کیےاور تحقیقات بھی ان کے ذمہ ہے۔ کراچی میں کریک ڈاؤن میں بعض لوگوں کو مذہبی منافرت پھیلانے والا مواد رکھنے، چھاپنے یا تقاریر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ جن کی ضمانت نہیں ہو سکیں انہیں جیل بھیج دیاگیا ہے۔ کیونکہ یہ مقدمات تعزیرات پاکستان کے تحت دائر کئے تھے۔ انسداد دہشتگردی کے قانون کے ساتھ ساتھ تعزیرات پاکستان کی دفعات بھی لگائی گئیں تھیں۔ گرفتار لوگوں کی ضمانتیں ہونے کے بعد پولیس نے جمعرات اور جمعہ کو حالانکہ پولیس کو 170افرادکی تلاش ہے، جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔ ڈی آئی جی آپریشن کراچی نے بتایا کہ ان لوگوں کا تعلق کالعدم تنظیموں جیش محمد ، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور دیگر انتہا پسند تنظیموں سے ہےجو اے اور بی کیٹگری میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس کے بارے میں شک ہے وہ انتہا پسند یا کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتا ہے یا قابل اعتراض مواد چھاپتا ہے تو اس کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ قانون میں اس لچک کی وجہ سے پولیس ان لوگوں کو دیگر مقدمات میں گرفتار کرنے پر بھی غور کر رہی ہے جس میں امتناعی قانون ایم پی او اور تحفظ عوامی امن امان کا قانون سرفہرست ہے۔ نوجوان وکیل ایاز لطیف کہتے ہیں کہ شیڈول چار میں وضع کردہ قانون ان بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے جو حقوق پاکستان کا آئین دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل چار، نو اور دس کے مطابق کسی شہری کو کہیں آنے جانے سے روکا نہیں جاسکتا۔ اور کوئی مقدمہ درج کئے بغیر اس کو گرفتار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||