ٹرین حادثہ:ملبہ اٹھانے کا کام جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ بدھ کے روز تین ٹرینوں کا جائے حادثہ بننے والے گھوٹکی کے سرحد ریلوے سٹیشن سے چوتھے روز بھی تباہ شدہ بوگیوں اور کراچی ایکسپریس کےانجن کا ملبہ اٹھانے کا جاری رہا اور معمول کی ریل گاڑیاں لوپ ٹریک سے گذرتی رہیں۔ سرحد ریلوے سٹیشن پر ٹرینوں کے متصادم ہونے سے بری طرح متاثر ہونے والے اپ اور ڈاون ریلوے ٹریکس کو تو پوری طرح بحال کردیا گیا ہے لیکن تباہ شدہ گاڑیوں کا ملبہ اٹھانے میں کافی وقت لگ رہا ہے۔ ملبہ اٹھوانے کے کام کے انچارج منظور احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرینوں کے تباہ حال ڈبوں کو اٹھانے کے لیے جو مال گاڑی بھیجی گئی ہے اس کے چھکڑے اس قسم کا سامان اٹھانے کے لیے موزوں نہیں ہیں اور ان کو قابل استعمال بنانے کے لیے انہیں بار بار ویلڈنگ پلانٹ کی مدد سے کاٹنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ملبہ اٹھانے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ کراچی ایکسپریس، کوئٹہ ایکسپریس اور تیز گام تیرہ جولائی کی صبح سرحد ریلوے اسٹیشن پر آپس میں ٹکرا گئی تھیں جس کے نتیجے میں بیسیوں مسافر ہلاک جبکہ تینوں گاڑیوں کے کل ملا کے انیس ڈبے الٹ گئے تھے۔ ملبہ اٹھانے کا کام جاری رہنے کی وجہ سےسرحد ریلوے سٹیشن کے پاس آکر ریل گاڑیوں کو متبادل راستےیعنی لوپ ٹریک سے گزرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ ٹرینیں اپنی اپنی منزل پر تاخیر سے پہنچ رہی ہیں۔ سرحد ریلوے سٹیشن پر گل سڑ جانے والے انسانی اعضاء اور جمے ہوئے خون کی بو کا راج ہے اور اب بھی کہیں کہیں انسانی جسم کی باقیات پڑی ملتی ہیں جو یہاں گزرنے والی قیامت کا پتہ دیتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||