’ہلاکتوں کی تعداد ناقابلِ یقین ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گھوٹکی کے قریب سرحد ریلوے سٹیشن پر تیرہ جولائی کی صبح تین بڑی ریل گاڑیوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک سو پینتیس کے لگ بھگ ہے لیکن امدادی کارکنوں اور ریلوے کے بعض اہلکاروں کا خیال ہے کہ انسانی جانوں کا ضیاع اس سے کہیں زیادہ ہواہے۔ گھوٹکی سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حسن شاہ جیلانی کےمطابق حادثے میں مرنے والوں کی تعداد ایک سو اکتیس ہے جن میں سے اڑسٹھ لاشوں کی شناخت ہونے پر انہیں ورثاء کے حوالے کردیا گیا جبکہ باقی تریسٹھ لاشوں کو عدم شناخت پر جمعہ کو گھوٹکی کے شاہ مومن قبرستان میں امانتاً دفنا دیا گیا۔ ڈاکٹر جیلانی کا کہنا تھا کہ امانتاً دفنائے جانے والے افراد کی میتں شناخت کے قابل ہی نہیں تھیں اور تین دن تک ہسپتال میں رکھنے سے ان کی حالت مزید خراب ہوگئی کیونکہ گھوٹکی کے ہسپتال میں لاشوں کو محفوظ رکھنے کا کوئی انتظام نہیں۔ انہوں نےکہا کہ اس کے باوجود لاشوں کو امانتاً دفنانے سے پہلے ان کی فلم بنا لی گئی ہے تاکہ گمشدہ مسافروں کی تلاش میں سرگرداں ان کے عزیز و اقارب اگر شناخت کرنا چاہیں تو انہیں وہ فلم دکھا دی جائے۔ تاہم سرحد ریلوے سٹیشن سے لاشیں اٹھانے کا کام کرنے والے امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ریل گاڑیوں کا تصادم اتنا شدید تھا کہ جائے حادثہ پر ہلاک ہونے والوں کے اعضاء بکھرے پڑے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نظر آنے والے انسانی جسم کے ہر حصے کو اکٹھا کرتے اور گٹھڑیاں بنا کر ہسپتال بجھوا دیتے۔ جائے حادثہ پر امدادی کام کرنے والے اداروں میں سے ایک الاختر ٹرسٹ کےمحمد زاہد خان کا کہنا تھا کہ لاشیس کہاں تھیں بس انسانوں کا قیمہ بنا ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پتہ چلے گا کے کن کن لوگوں کے کتنے پیارے لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحد ریلوے سٹیشن پر بہت بڑا انسانی المیہ ہوا ہے۔ رینجرز کے سپاہیوں نجیب اور امجد نے بھی جائے حادثہ سے لاشیں اٹھانے کا کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف انسانوں کے ٹکڑے اکٹھے ایک گٹھڑی میں بند کرکے اسے ایک معیت کا نام دیا جا رہا تھا۔ گھوٹکی ہسپتال کےذرائع کے مطابق جمعے کے روز امانتاً دفنائے جانے والوں میں کم از کم سینتیس ایسی گٹھڑیاں تھیں جن میں صرف انسانی جسموں کے حصے تھے۔ سرحد ریلوے سٹیشن پر حادثے کے بعد سے سٹیشن ماسٹر کے فرائص سر انجام دینے والے آغا بشارت احمد کا کہنا تھا کہ حادثے میں الٹنے والی انیس میں سے چار بوگیاں تو مکمل طور پر تباہ ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تینوں گاڑیاں مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہیں اور ایک ڈبے میں اسی سے سو کے درمیان لوگ سوار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذہن نہیں مانتا کہ پاکستان کی تاریخ میں ریلوے کے سب سے بڑے حادثے جس میں تین ایکسپریس ٹرینیں آپس میں ٹکرائی ہوں اور مرنے والوں کی تعداد اتنی ہو جتنی بتائی جا رہی ہے۔ آغا بشارت کے مطابق حادثے کے وقت کراچی ایکسپریس اور تیز گام کی رفتار سو کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تھی۔ان کا کہنا تھا کہ تینوں گاڑیوں میں سوار مسافروں کی تعداد جو سترہ سو بتائی جارہی ہے وہ صرف ان مسافروں کی ہے جن کی بکنگ تھی۔ اس گنتی میں ان مسافروں کو شامل نہیں کیا جارہا جو بغیر بکنگ کے سوار ہوئے ہونگے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||