بلوچستان: تین بچے دہماکے میں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر جھل مگسی کے قریب ایک دھماکے میں تین بھائی ہلاک اور بہن زخمی ہو گئی ہے۔ کوئٹہ سے کوئی ساڑھے چار سو کلومیٹر دور جنوب میں صوبے کے پسماندہ ترین علاقے جھل مگسی میں کل صبح بچوں کو کھلونا نما چیز ملی جس سے انھوں نے کھیلنا شروع کر دیا۔ علاقے کے تحصیلدار اسلم رعیسانی نے بتایا ہے کہ یہ بچے لیویز کے حوالدار کے تھے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دھماکہ کس چیز سے ہوا ہے اس بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔ ہلاک ہونے والے بچوں میں یار محمد اور عظیم خان کی عمریں آٹھ سال بتائی گئی ہیں اور یہ جڑواں بھائی تھے جبکہ تیسرے ہلاک ہونے لڑکے کی عمر پانچ سال تھی۔ یہ واقعہ کل پیش آیا ہے لیکن صوبائی دارالحکومت سے دور ہونے اور بہتر رابطے نہ پونے کی وجہ سے یہاں اطلاع کافی تاخیر سے ملی ہے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بچوں کو یہ دھماکہ خیز مواد کہاں سے ملا ہے۔ تحصیلدار نے بتایا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ دستی بم ہو اور بچے اسے کھلونا سمجھ کر کھیل رہے ہوں کیونکہ ایک بچے کا ہاتھ جسم سے الگ ہو چکا ہے۔ بلوچستان میں اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات ہوچکے ہیں جن میں بچے اس طرح کے بموں سے کھیلتے ہوئے جان بحق ہوئے ہیں۔ جھل مگسی کوئٹہ سے دور ہے اور بڑی شاہراہوں سے کٹا ہوا علاقہ ہے جس وجہ سے اس پسماندہ شہر کی طرف حکمرانوں کی توجہ نہیں ہے۔ اس علاقے میں سڑکیں نہیں ہیں ہسپتال اور تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||