BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 July, 2005, 23:22 GMT 04:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس کے داؤ پیچ، 163 گرفتار

News image
پولیس کے دعوے کے باوجود لوگ عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہیں
صوبائی دارالحکومت پشاور کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پندرہ دن کی خصوصی مہم کے دوران پانچ سو تریسٹھ اشتہاری ملزمان گرفتار کر کے غیرمعمولی ریکارڈ قائم کیا ہے۔

اس مدت میں کڑوڑوں روپے کی مالیت کی منشیات اور بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔

یہ بات چیف کیپٹل سٹی پولیس پشاور حاجی محمد حبیب الرحمان نے اخباری کانفرنس کے دوران بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس مہم کے دوران ملنے والی کامیابی توقعات سے بھی زیادہ تھی۔

اس کی تفصیل بتاتے ہوئے، حبیب الرحمان نے کہا کہ اس کارروائی کے دوران سنگین جرائم میں مطلوب پانچ سو تریسٹھ اشتہاری ملزمان کو انتہائی مہارت کے ساتھ داو پیچ لگا کر گرفتار کیا گیا۔

برآمد کئے گئے اسلحے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ایک سو کلاشنکوف، اننچاس رائفل، دس کلاکوف، ایک سو بائیس شاٹ گن، ایک سٹین گن، تقریبا تین سو پستول، چھ دستی بم اور سولہ ہزار مختلف بور کے کارتوس قبضے میں لیے گئے ہیں۔

اس مہم کے دوران اکاون من چرس، ڈیڑھ کلو ہیروئن، پانچ سو بیس گرام افیون اور ایک سو تیرا لیٹر شراب برآمد کی ہے۔

چیف کیپٹل سٹی پولیس کا دعویٰ تھا کہ پشاور کی تاریخ میں اتنی قلیل مدت میں اتنے بڑے پیمانے پر اشتہاری ملزمان کی گرفتاری اور اسلحہ و منشیات کی برآمدگی پہلی مرتبہ عمل میں آئی ہے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے چیف کیپٹل سٹی پولیس نے کہا کہ پشاور میں جرائم کی شرح میں پہلے ہی کمی ہے لیکن ان کامیابیوں سے اس میں مزید کمی آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ماسوائے اکا دکا کیسز کے تمام مقدمات انہوں نے ٹریس کر لیے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کے صوبائی حکومت کی جانب سے انہیں ’فری ہینڈ’ ملا ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں کمی آئی ہے اور کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔

پولیس کے یہ دعوے اپنی جگہ لیکن عام لوگوں کے خیال میں ان میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے کم نہیں ہوا۔ مقامی اخبارات روزانہ چوری ڈکیتی اور قتل کے واقعات سے بھرے نظر آتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد