BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 July, 2005, 10:07 GMT 15:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انٹرنیٹ بحالی میں دیر ہو سکتی ہے

موجودہ خرابی سے پاکستان کو شدید نقصان پہنچا ہے
انٹرنیٹ سسٹم میں خرابی کے باعث اسلام آباد میں قائم ایک کال سنٹر ویران پڑا ہے
پاکستان کے ٹیلی مواصلات کے سرکاری ادارے پی ٹی سی ایل کے سربراہ جنید خان کا کہنا ہے کہ زیرِ سمندر انٹرنیٹ کے فائبر لِنک میں فنی خرابی کی ابھی تک نشاندہی نہیں ہو سکی ہے جس کے باعث انٹرنیٹ سروس میں تعطل کو دور کرنے میں مزید وقت لگے گا۔

جنید خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس خرابی کو دور کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات سے آنے والے بحری جہاز کی مدد کے باوجود خرابی کی جگہ کی نشاندہی نہیں ہو سکی ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ وہ ابھی یہ نہیں بتا سکتے کہ اس خرابی کو دور کرنے میں تین دن لگیں گے یا ایک ہفتہ۔

ان کا کہنا تھا کہ خرابی کی جگہ کی نشاندہی کرنے میں موسم کی خرابی اور سمندر میں طوفان کی وجہ سے مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

ایک ہفتے قبل انٹرنیٹ لنک میں خرابی کی وجہ سے ملک میں انٹرنیٹ کمپنیوں،انٹرنیٹ کیفے، بینک، کال سینٹرز، اسٹاک ایکسچینج، فضائی کمپنیوں سمیت بہت سے کاروباری اداروں کا کام بہت متاثر ہوا ہے۔

انٹرنیٹ میں اس تعطل کی وجہ سے حکومتی اور نجی کمپنیوں کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے مگر نہ تو حکومتی عہدیدار اور نہ ہی نجی ادارے اس بارے میں کوئی حتمی اندازہ لگا پائے ہیں۔

پاکستان کے لاکھوں انٹرنیٹ صارفین اپنے دفاتر،گھروں اور انٹرنیٹ کیفے پر گذشتہ ایک ہفتے سے اس امید پر انٹرنیٹ لگاتے ہیں کہ شائد یہ خرابی درست ہو گئی ہو مگر ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا ہے۔

پی ٹی سی ایل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کےادارے نے سیٹلایٹ سے کچھ سرکٹ حاصل کیے ہیں جن کی وجہ سے انٹرنیٹ صارفین کو اصل بینڈوڈتھ کی چالیس سے پچاس فی صد تک بینڈوڈتھ مل رہی ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی ضروریات چا سو سے پانچ سو میگا بائٹ فی سیکنڈ کی ہیں جبکہ اس وقت صارفین کو صرف ایک سو میگا بائٹ مل رہی ہیں۔

تاہم پی ٹی سی ایل حکام کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ سے سرکٹ حاصل کرنے کے بعد اب صارفین کو خصوصا کمرشل صارفین کو دو سو میگا بائٹ تک بینڈوڈتھ مل رہی ہے۔

پاکستان میں اس وقت پچاس سے زائد انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیاں کام کررہی ہیں جن کے تقریباً ایک کروڑ کے لگ بھگ صارفین ہیں۔

اسلام آباد کے انٹرنیٹ کیفوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے سے ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔

اسلام آباد کے کچھ انٹرنیٹ کیفے تو عارضی طور پر بند کر دئے گئے ہیں جبکہ کچھ اس امید پر کھلے ہیں کہ شاید انٹرنیٹ کی یہ خرابی جلد ہی دور ہو جائے۔اسی طرح ملک کےکال سینٹرز کا کام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

پی ٹی سی ایل انتظامیہ کا موقف ہے کہ ایسی خرابی گذشتہ پانچ سال میں پہلی دفعہ ہوئی ہے تاہم انٹرنیٹ صارفین کا کہنا ہے کہ پی ٹی سی ایل کو کم از کم کوئی متبادل ذریعہ تو بیک اپ کے طور پر رکھنا چاہئے تاکہ مستقبل میں ایسی کوئی بات نہ ہو۔

تاہم اب پی ٹی سی ایل حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایک اور فائبر لنک کیبل بچھانے پر کام کر رہے ہیں جو اس سال کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا جس کے باعث مستقبل میں ایسے تعطل کی صورت میں بیک اپ موجود ہو گا۔

66انٹرنیٹ بلیک آؤٹ
پاکستان میں انٹرنیٹ سروسز بری طرح متاثر
66انٹرنیٹ میں تعطل
انٹرنیٹ کمپنیوں کو کروڑوں روپے کا نقصان
66آج کا کیدو
انٹرنیٹ کی خرابی سے نیٹ عاشق پریشان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد