سمندرمیں فائبرلنک میں نقص کی تلاش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بحرِ ہند کی وسعتوں میں ایک بحری جہاز زیر سمندر فائبر لنک میں پیدا ہونے والے اس نقص کی تلاش کی کوشش کر رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے ایک کروڑ انٹر نیٹ صارفین کا باقی دنیا سے رابط مشکل ہو گیا ہے۔ پاکستان کی سرکاری ٹیلی مواصلات کی کمپنی پی ٹی سی ایل کے چیف ایگزیکٹیو جنید خان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ جنوبی مشرقی ایشیا، مشرقِ وسطی اور مغربی یورپ کو ملانے والے فائبر لنک میں پیدا ہونی والی خرابی کی جگہ کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔ جنید خان نے کہا کہ سٹلائیٹ کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پچاس فیصد صارفین کو انٹر نیٹ کی سہولت مہیا کر دی گئی ہے۔ انہوں نے زیر سمندر فائبر لنک میں پیدا ہونے والی اس خرابی کی مزید تفصیلات مہیا نہیں کیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ اس خرابی کو دور کرنے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔ جنید خان نے کہا کہ اس خرابی کی وجہ سے انٹر نیٹ کا کثرت سے استعمال کرنے والے اداروں جن میں بینک، فضائی کمپنیاں اور سٹاک مارکیٹس شامل ہیں۔اس خرابی کی بنا پر ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کراچی میں ایک کال سینٹر کے مالک فرخ اسلم نے کہا کہ اس خرابی کی وجہ سے امریکہ میں ان کے دو کلائنٹس ان کو چھوڑ گئے ہیں۔ فرخ اسلم کے اس کال سینٹر میں تقریباً تین سو ملازمین ہیں۔ فرخ اسلم نے کہا کہ وہ اپنے کال سینٹر میں ملازمین کی تعداد کو وقتی طور پر کم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس خرابی سے ان کا کاروبار تباہ ہو گیا ہے۔ پی ٹی سی ایل کے حکام نے کہا ہے پاکستان سے بیرونی دنیا کا کمپیوٹر کے ذریعے رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے دو نئے لنکس پر کام ہو رہا ہے۔ اس میں سے ایک زیر سمندر بچھایا جائے گا جب کے دوسرا زمینی راستے سے بھارت کے ساتھ رابط قائم کرئے گا۔ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق اس وقت پچیس کال سینٹر موجود ہیں جن سے ملک کو سالانہ ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||